برطانیہ:’غیر یورپی طلبہ کو داخلہ دینے پر پابندی‘

تصویر کے کاپی رائٹ PA

برطانیہ میں وزارت داخلہ نے کہا ہے کہ گزشتہ چھ ماہ میں چار سو ستر سے زائد کالجوں پر یورپ سے باہر کے طلبہ کو داخلہ دینے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔

ان کالجوں کے یا تو لائسنس واپس لے لیےگئے ہیں، یا پھر انہوں نے حکومت کے نئے انسپکشن کے نظام میں شرکت نہیں کی۔ یہ اقدامات حکومت کی امیگریشن کے نظام کو زیادہ سخت بنانے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔

وزارت داخلہ کے مطابق اگر ان کالجوں پر یہ پابندی نہ ہوتی تو یہ تقریباً گیارہ ہزار طلبہ کو داخلہ دے سکتے تھے۔

امیگریشن کے وزیر ڈیمین گرین کے مطابق نظام میں لائی گئی تبدیلیوں کا اثر اب نظر آنے لگا ہے۔

اس سے پہلے اس سال برطانیہ آنے کے خواہشمند طلبہ کو ویزا دینے کے لیے بھی نئے قوانین متعارف کروائےگئے تھے۔ ان کا مقصد ان کالجوں پر پابندی عائد کرنا تھا جن کے ذریعے کام کی تلاش میں افراد طالب علم بن کر برطانیہ میں داخل ہو جاتے تھے۔

برطانیہ کے امیگریشن نظام میں جو تبدیلیاں لائی گئی ہیں ان کے ذریعے یہ دیکھا جائےگا کہ طالب علم انگریزی بول سکتے ہیں، کالج میں بتایاگیا کورس واقعی وہاں پڑھایا جاتا ہے اور کالج کے مالکان امیگریشن اور ویزا کی تمام ضروریات پوری کر رہے ہیں۔

اس سال برطانیہ کی بارڈر ایجنسی نے سو سے زائد کالجوں کی تفتیش کی جہاں جنوبی ایشیا سے زیادہ تعداد میں طلبہ نے داخلہ لیا تھا۔ تفتیش کے دوران ایجنسی نے ایک ایسے طالب علم کا انٹرویو کیا جو زیادہ تر سوالات کا جواب صرف انگریزی کے لفظ ’ہیلو‘ سے دے سکتا تھا۔

امیگریشن کے وزیر ڈیمین گرین کے مطابق یہ سختی اس لیے کرنا پڑی ہے کیونکہ برطانیہ میں کئی ادارے بیرونی طلبہ کو تعلیم فراہم کرنے کے بجائے صرف امیگریشن کا ذریعہ بنے ہوئے ہیں۔

تاہم ادارے یونیورسٹیز یوکے کی سربراہ نیکولا ڈینڈرج کا کہنا ہے کہ یہ بھی ضروری ہے کہ حکومت اس بات کا خیال رکھے کہ جو طلبہ واقعی تعلیم حاصل کرنے یہاں آنا چاہتے ہیں، ان پر ان تبدیلیوں کا اثر نہ پڑے۔

اسی بارے میں