یونان کی امداد یورو زون میں رہنے سے مشروط

یونان
Image caption یونان کے وزیرِ اعظم نے یورو زون میں رہنے یا نہ رہنے سے متعلق ریفرنڈم کروانے کا اعلان کیا ہے۔

فرانس اور جرمنی نے یونان کو معاشی بحران سے بچانے کے لیے نئے مالی پیکج کو یونان کے یورو زون میں رہنے سے مشروط کر دیا ہے۔

یورو کرنسی استعمال کرنے والے بڑے ممالک فرانس اور جرمنی نے یونان کو خبردار کیا ہے کہ اسے معاشی بحران سے بچانے کے لیے اس وقت تک نیا مالی پیکج نہیں دیا جائے گا جب تک یہ واضح نہیں ہو گا کہ یونان یورو زون یعنی یورو کرنسی استعمال کرنے والے ممالک کے اتحاد کا حصہ رہنا چاہتا ہے یا نہیں۔

ادھر یونان کی حکومت میں شامل دو وزرا نے وزیرِ اعظم کی جانب سے یورو زون میں رہنے یا نہ رہنے سے متعلق ریفرنڈم کروانے کے فیصلے کی مخالفت کی ہے۔

یونان کے کے وزیرِ خارجہ ایوینگولس وینیزیلوس کا کہنا ہے کہ ’یونان کا یورو زون میں شامل ہونا ایک تاریخی قدم تھا جسے اب ایک ریفرینڈم کی نذر نہیں ہونا چاہئے۔‘

جبکہ یونان کے ترقی کے وزیر کا موقف ہے کہ یورپی یونین کی جانب سے امدادی معاہدے سے متعلق منظوری کا فیصلہ پارلمیان کو کرنا چاہئے۔

فرانس اور جرمنی نے گزشتہ ہفتے یونان کے لیے امدادی پیکج کا اعلان کیا تھا جو ایک مرتبہ پھر دیوالیہ ہونے کے خطرے سے دوچار ہے لیکن بدھ کی شب فرانسیسی شہر کانز میں ایک ہنگامی اجلاس کے دوران فرانسیسی وزیرِاعظم جارج پپینڈریو کو کہا گیا کہ جب تک یونانی عوام یورو زون میں رہنے کا فیصلہ نہیں دیتے اس وقت تک یورپی امدادی رقم یونان کو نہیں دی جائے گی۔

جرمن چانسلر اینجلا مرکل نے کہا کہ ہم یونان کی مدد کرنا چاہتے ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ وہ یورو زون کا حصہ رہے لیکن یونان نے ریفرنڈم کا یکطرفہ فیصلہ کیا ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ’اب ہمارا بھی یہی فیصلہ ہے کہ امداد کی چھٹی قسط اسی وقت دی جائے گی جب یونان اپنے فیصلوں میں واضع ہو جائے گا اور تمام شکوک کو دور کر دے گا۔ اس کا مطلب یہ کہ ریفرنڈم میں یونان کے عوام یہی فیصلہ کریں کہ وہ یورو زون کا حصہ رہنا چاہتے ہیں۔‘

اس موقع پر یونانی وزیرِ اعظم جارج پپینڈریو نے کہا کہ یورپ سے مشروط امدادی پیکج لینے کے بارے میں ریفرنڈم چار دسمبر تک ہو جائے گا۔

انہوں نے زور دیا کہ یونانی عوام یورو زون کی رکنیت پر فخر کرتے ہیں اور انہیں امید ہے کہ ریفرنڈم کا نتیجہ یورو زون کے حق میں آئے گا۔

اسی بارے میں