ملائیشیا: ازدواجی تعلقات کی کتاب پر پابندی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ملائیشیا کی حکومت کہتی ہے کہ یہ تنظیم ملک کی بدنامی کا باعث بن رہی ہے

ملائیشیا میں حکومت نے مسلمان خواتین کی ایک تنظیم کی جانب سے ازدواجی تعلقات کے بارے میں ہدایت پر مشتمل ایک متنازع کتاب کی اشاعت اور فروخت پر پابندی لگا دی ہے۔

فرماں بردار بیویاں کے کلب کے نام سے بنائی گئی ایک تنظیم نے کتاب شائع کی ہے جس میں مسلمان عورتوں کو ازدواجی تعلقات کے بارے میں ہدایات دی گئی ہیں۔

یہ کتاب جسے اسلام میں مباشرت کے طریقے کے عنوان سے شائع کیا گیا ہے، صرف چند سو افراد کی نظر سےگزری ہے۔ اس کتاب کو عورتوں کی تحقیر کرنے اور ایک سے زیادہ شادیاں کرنے کے رجحان کی حوصلہ افزائی کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ اگر کوئی شخص فروخت کی غرض سے اس کی کاپیاں کرنے میں ملوث پایا گیا تو اسے تین سال قید کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔

اس کلب کے ارکان نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ یہ کتاب صرف کلب کے ممبران کو روحانی ہدایت دینے کے لیے مرتب کی گئی ہے اور اس کا مقصد انھیں جنسیات کے بارے میں آگاہی فراہم کرنا ہے۔

اس سے قبل اس کلب نے کہا تھا کہ عورتوں کو اپنے شوہروں سے خلوت میں ’اعلی درجے کی داشتاوں‘ کے طور پر پیش آنا چاہیے تاکہ وہ کسی دوسری عورت سے تعلقات اور تشدد سے باز رہیں۔

ملائیشیا کی حکومت کہتی ہے کہ یہ تنظیم ملک کی بدنامی کا باعث بن رہی ہے۔

ملائیشیا کے حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر کسی کے پاس یہ کتاب ہوئی تو اسے سولہ سو امریکی ڈالر جرمانہ کیا جائے گی۔

اسی بارے میں