شامی فوج پر تئیس لوگوں کو ہلاک کرنے کا الزام

ہولا تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption حمص کے قریبی علاقے ہولا میں بدھ کو ہلاک ہونے والوں کی نمازِ جنازہ جمعے کو پڑھائی گئی۔

عرب لیگ کے اس اعلان کے بعد کہ شام نے ٹینکوں کو ہٹانے پر آمادگی ظاہر کی ہے شام سے مزید تشدد کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

شام حزب اختلاف کے سرگرموں یا ایکٹیوسٹوں کا کہنا ہے کہ جمعہ کی نماز کے مسلح افواج نے کم از کم تئیس افراد کو ہلاک کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ لوگ جمعے کی نماز کے بعد احتجاج کر رہے تھے۔

گذشتہ روز ان ایکٹیوسٹوں کا کہنا تھا کہ شہر حمص میں ٹینکوں سے کی جانی والی فائرنگ کے تیجے میں کم از کم بیس افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ٹینکوں پر مشین گنیں نصب ہیں جن سے فائرنگ کی جاتی ہے۔

یہ واقعہ شام کے بارے میں عرب لیگ کے اس اعلان کے دوسرے دن سامنے آیا کہ شام نے بحران کو ختم کرنے کے لیے عرب لیگ کی تجاویز قبول کر لی ہیں۔

عرب لیگ کی تجاویز کے مطابق شامی حکومت نے ٹینکوں کو واپس لے جانے اور شہروں سے فوج کو ہٹانے کے اقدام کرنے تھے جس کے لیے شام کو دو ہفتے کا وقت دیا گیا تھا۔

اس مفاہمت کے تحت شام کی حکومت نے حزب اختلاف سے مذاکرات شروع کرنے تھے، ذرائع ابلاع کے نمائندوں کو ملک میں آنے اور آزادانہ طور پر حالات کا جائزہ لینے کی اجازت دینا تھی اور تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کرنا ہے۔

گزشتہ روز امریکی دفترِ خارجہ کی ترجمان وکٹوریہ نولینڈ نے کہا ہے کہ ایسی کوئی شہادت دکھائی نہیں دیتی جس سے لگتا ہو شام عرب لیگ سے اپنے وعدے کی پاسداری کرے گا۔

کہا جاتا ہے کہ شام کی حکومت نے ملک میں صحافیوں، انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کے اراکین اور عرب لیگ کے نمائندوں کے داخلے کی اجازت دی ہے۔

تاہم شام میں حکومت مخالف گروہوں کا کہنا ہے کہ عرب لیگ کی تجاویز قبول کر کے حکومت اپنے لیے صرف مزید وقت حاصل کرنا چاہ رہی ہے۔

اسی بارے میں