یونان: مذاکرات کامیاب، پپینڈریو استعفٰی دیں گے

تصویر کے کاپی رائٹ l
Image caption مذاکرات کی کامیابی کے بعد وزیراعظم جارج پپینڈریو کو مستعفی ہونا پڑے گا

یونان کے دارالحکومت ایتھنز میں قومی حکومت تشکیل دینے کے لیے حکومتی اور حزبِ اختلاف کے رہنماؤوں کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوگئے ہیں۔

صدارتی دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ مذاکرات کے نتیجے میں وزیراعظم جارج پپینڈریو کو اقتدار چھوڑنا ہوگا اور ان کے جانشین کا انتخاب پیر کو کیا جائے گا۔

اتوار کو صدر کارلوس پاپولیاس کی دعوت پر ہونے والے مذاکرات میں جارج پپینڈریو اور حزبِ اختلاف کے رہنماء انتونس سمارس بھی شریک تھے۔

یونان کے قرضوں کے بحران پر ایک ہفتے سے جاری کشیدگی کے بعد صدارتی اعلان کیا گیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ نئے وزیراعظم کی نامزدگی کے بعد صدر تمام جماعتوں کو قومی حکومت تشکیل دینے کی دعوت دیں گے۔

جارج پپینڈریو بھی ملک میں قومی حکومت بنانے کی کوشش کررہے تھے تاہم ڈیموکریسی پارٹی کے رہنماء انتونس سمارس کا کہنا تھا کہ بات چیت اس وقت تک آگے نہیں بڑھے گی جب سے جارج پپینڈریو مستعفی نہیں ہوجاتے۔

دونوں رہنماؤوں میں عام انتخابات کے انعقاد کی تاریخ پر بھی اختلافات تھے۔ جارج پپینڈریو چاہتے تھے کہ انتخابات کو کئی ماہ تک ملتوی کردیا جائے جبکہ انتونس سمارس کا مطالبہ تھا کہ انتخابات کا انعقاد فوری ہونا چاہیے۔

قیاس کیا جارہا ہے کہ نئی حکومت کی سربراہی موجودہ وزیرِ خزانہ ایواگیلوس وینیزیلو کریں گے۔

نیو ڈیموکریسی جماعت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے نتیجے میں کیا جانے والا یہ فیصلہ قابلِ اطمینان ہے۔

انہوں نے کہا کہ اتوار کی رات کو ایواگیلوس وینیزیلو کے ساتھ مزید مذاکرات متوقع ہیں کہ کتنی جلد یورپی یونین کا امدادی رقم کا پیکج منظور کرایا جائے اور انتخابات کب منعقد کیے جائیں۔

ان کے بقول ’ہمارے دو اہداف تھے، پہلا یہ کہ وزیراعظم پپینڈریو مستعفی ہوں اور دوسرا یہ کہ انتخابات کا انعقاد کیا جائے اور دونوں مطالبات پورے ہورہے ہیں۔

وزیراعظم پپینڈریو جمعہ کو ایوان سے اعتماد کا ووٹ لینے میں بمشکل کامیاب ہوئے تھے تاہم ان پر قرضوں کے بحران کے تناظر میں مستعفی ہونے کے لیے مستقل دباؤ تھا۔

اسی بارے میں