شام: ’پینتیس سو سے زیادہ ہلاکتیں‘

فائل فوٹو، شامی مظاہرے تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption شامی صدر بشارالسد کی حکومت کے خلاف مظاہرے رواں سال مارچ سے ملک بھر میں جاری ہیں۔

اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ شام میں حکومت کے خلاف مظاہروں میں اب تک پینتیس سو سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کی ایک ترجمان کے مطابق یہ ہلاکتیں حکومت کی جانب سے کیے جانے والے بے رحم کریک ڈاؤن کے باعث ہوئی ہیں۔

اگرچہ پچھلے ہفتے عرب لیگ کا کہنا تھا کہ شام نے ٹینکوں کی واپسی اور فوجیوں کو ہٹانے پر آمادگی ظاہر کی ہے لیکن اقوامِ متحدہ کے مطابق اس دوران کم از کم مزید ساٹھ شامی شہری ہلاک ہوئے ہیں جن میں سے بیشتر کا تعلق مرکزی شہر حمص سے ہے۔

اقوامِ متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق کی ترجمان روینا شمدسانی کا کہنا تھا ’شامی فوجی ابھی تک حمص میں شہری علاقوں میں ٹینکوں اور ہتھیاروں کا استعمال کر رہے ہیں۔‘

حکومت کے مخالف کارکنوں کے مطابق رواں ہفتے منگل کو ملک بھر میں گیارہ افراد ہلاک ہوئے جن میں سے چار کی ہلاکت حمص میں ہوئی۔ کارکنوں کا کہنا تھا کہ ہلاک ہونے والوں میں سے ایک سولہ سالہ لڑکی تھی۔

کارکنوں نے مزید بتایا کہ شامی فوجی گھر گھر جا کر شہریوں کو گرفتار کر رہے ہیں جب کہ بے شمار شہری پہلے ہی اپنے گھر چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔

رواں ہفتے پیر کو مرکزی شامی حکومت کے مخالف گروہ شامی نیشنل کونسل کا کہنا تھا کہ حمص ایک آفت زدہ علاقہ بن چکا ہے اور اس سلسلے میں انھوں نے بین الاقوامی ممالک سے شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے کی مدد مانگی ہے۔

حمص کے ایک کارکن سلیم الحمسی نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ’اِن کو لگتا ہے کہ یہ لوگ بابا امر پر بھی کنٹرول حاصل کر لیں گے جیسے انھوں نے باقی جگہوں پر کیا ہے لیکن یہ صحیح نہیں ہیں۔ ہمیں ان سے ڈر نہیں لگتا۔‘

واضح رہے کہ شامی صدر بشارالاسد کی حکومت کے خلاف مظاہرے رواں سال مارچ سے ملک بھر میں جاری ہیں۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ حکومت نے ان پرامن مظاہروں کا جواب طاقت اور تشدد سے دیا ہے۔

دوسری جانب شامی حکام کا کہنا ہے کہ فوج اور سکیورٹی فورسز کا مقابلہ ’مسلح گروہوں‘ سے ہے اور اب تک گیارہ سو سے زیادہ سکیورٹی اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں