امریکی فوجی کے خلاف قتل کے الزامات ثابت

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

ایک امریکی عدالت نے اس امریکی فوجی کو قاتل قرار دیا ہے جو افغانستان میں تعیناتی کے دور عام شہریوں کو ہلاک کر کے ان کی انگلیاں کاٹ اپنے پاس رکھ لیتا تھا۔

اس فوجی کو عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

سارجنٹ کیلون گبز کو ’بدمعاش‘ فوجیوں کی ایک ٹولی کا سربراہ سمجھا جاتا ہے جو معصوم افغان شہریوں کو قتل کرکے انہیں شدت پسند ظاہر کرتے تھے۔

چھبیس سالہ کیلون گبز نےعدالت میں تسلیم کیا کہ انہوں نے کئی افغانیوں کو قتل کرنے کے بعد ان کی انگلیال کاٹ کر اپنے پاس رکھ لی تھیں لیکن سوچے سمجھے منصوبے کے تحت قتل کرنے کے الزام کی تردید کی ہے۔ ان کا موقف تھا کہ انہوں نے فائرنگ کا جواب فائرنگ سے دیا تھا۔

کیلون گبز کے تین ساتھیوں نے اپنا جرم تسلیم کر لیا اور ان میں سے دو نے کیلون گبز کے خلاف گواہی بھی دی۔

استغاثہ نے عدالت کو بتایا تھا کہ یہ فوجی اپنے نہتے لوگوں کو قتل کرنے کے بعد انہیں شدت پسند ثابت کرنے کے لیے ان کی لاشوں پر اسلحہ بھی رکھتے تھے۔

جیوری نے چار گھنٹے کے غور و غوص کے بعد سارجنٹ کیلون گبز کے خلاف پندرہ الزامات کو جائز قرار دیا ہے۔

استغاثہ نے عدالت کو بتایا کہ سارجنٹ اور ان کی ٹیم نے شہریوں کو ہلاک کر کے ان کے قریب بندوقیں رکھیں تاکہ ان کو جنگجو ثابت کر سکیں۔

استغاثہ کے مطابق ففتھ سٹرائیکر بریگیڈ جس میں سارجنٹ کیلون تھے افغانستان میں کسی کے قابو میں نہیں تھی۔ یہ پلاٹون حشیش کا استعمال کرتی تھی اور جو فوجی ان کی شکایت کرتے ان کو تشدد کا نشانہ بناتے تھے۔

اس بریگیڈ کے ایک فوجی ایڈم ونفیلڈ نے اپنے والدین کو پہلے افغان شہری کی ہلاکت کے بارے میں مطلع کیا اور بتایا کہ مزید شہریوں کو ہلاک کرنے کا منصوبہ ہے۔