یورو، تنازعات کا باعث یا اتحاد کی کرنسی

فائو فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption حقیقت تو یہ ہے کہ یورو جس کو امن و اتحاد کا سرچشمہ سمجھا گیا تھا ابھی تک صرف تنازعات کا باعث بنا ہوا ہے۔

یورو کے بانیوں نے ایک بہت عظیم خواب دیکھا تھا۔ ان کے خیال میں یورپ کی ایک مشترکہ کرنسی تمام یورپی ممالک کو اس قدر قریب لے آئے گی جو محظ سیاسی اقدامات سے ممکن نہیں۔

اقتصادی ماہرین نے جرمن چانسلر ہیلمٹ کوہل کو بڑا سمجھایا کہ مشترکہ مانیٹیری پالیسی یکساں ٹیکس اور مراعات کے نظام کے بغیر انتہائی غیر مستحکم ہوگی اور کچھ ممالک سود کی نیچی سطح دیکھ کر اپنی بساط سے زیادہ قرضہ لیں گے اور یہ عمارت گر جائے گی۔

لیکن کوہل صاحب نے اُن ماہرین کی ذرا نہ سنی اور اُن کو سمجھایا کہ یورو کا قیام اقتصادیات کے لیے نہیں بلکہ امن کے لیے ہے۔ یورو کا مقصد ایک ایسے یورپ کا قیام ہے جو پھر کبھی جنگ کے بارے میں سوچ بھی نہ سکے۔

تمام ماہرین یہ جانتے تھے کہ یورو کو اپنانا ایک جوا ہے۔ یورپ میں سوچ یہ تھی کہ امریکہ کے برعکس مالیاتی اتحاد، سیاسی اتحاد سے پہلے لایا جا سکتا ہے اور اگر آج جرمنی نے یورو زون کی مالیاتی پالیسی پر اہم تر اختیارات کے عوض اِن ممالک کی امداد کر دی ہے تو یہ جوا کامیاب اور یہ سوچ سچ ثابت ہو جائے گی۔

حقیقت تو یہ ہے کہ یورو جس کو امن و اتحاد کا سرچشمہ سمجھا گیا تھا ابھی تک صرف تنازعات کا باعث بنا ہوا ہے۔

جرمنی کو ایسے ممالک پر خرچ کرنے کا افسوس ہے جنہیں وہ غیر ذمہ دار سمجھتا ہے۔ یونان کو پرائی بیوروکریسی کی سننی پڑتی ہے جو کہ دوسری جنگِ عظیم کے زخم ہرے کر دیتا ہے۔ اٹلی کولگتا ہے کہ اُس کا درجہ کم کر دیا گیا ہے جبکہ وہ یورو کے بانیوں میں سے ایک ہے۔ فرانس یورپ کے نئے بچت اقدامات کے جواب میں دائیں بازو کی پالیسیوں کے بارے میں سوچ رہا ہے۔ یورو زون کے مالیاتی اداروں پر شدید دباؤ ہے اور سینٹرل یورپی بینک کو کہا جا رہا ہے کہ وہ لسبن معاہدہ توڑ کر مشکلات میں قرضے فراہم کرے۔

سارے یورپ میں حکومتیں گر رہی ہیں اور جو دس ممالک یورو زون کا حصہ نہیں بھی ہیں اُنہیں بھی احساس ہے کہ اُن کے مشورے کے بغیر فیصلے ہو رہے ہیں جو اُنہیں بھگتنا ہوں گے۔

لیکن اِس سب کے باوجود یہ نہیں کہا جا سکتا کہ یورو ناکام ہو گیا ہے۔ آج مسائل بینک حل کر رہے ہیں، فوجیں نہیں۔ جرمن چانسلر کے بقول یورو کی ناکامی یورپ کی ناکامی ہوگی۔ جرمنی آج تنہا یورپی سپر پاور نہیں بن سکتا اور اُسے اِن ممالک کو بچانا پڑے گا اور یورپ کو آپس میں بُننا پڑے گا۔