یمن جھڑپوں میں نو افراد ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption یمن کے صدر علی عبداللہ صالح کے اقتدار کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ رواں سال جنوری سے جاری ہے

اطلاعات کے مطابق یمن کے شہر تعز میں حکومت اور باغی افواج کے درمیان ہونے والے جھڑپوں میں نو افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

تعز میں موجود طبی حکام کا کہنا ہے کہ لڑائی میں درجنوں شہری بھی زخمی ہوئے ہیں۔

واضح رہے کہ یہ جھڑپیں اقوامِ متحدہ کے سفیر جمال بنومر کے دورۂ یمن کے موقع پر ہوئیں ہیں۔

جمال بنومر یمن میں جاری تنازع کے خاتمے اور اقتدار کی پر امن منتقلی کے لیے یمن کا دورہ کر رہے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے سفیر جمعرات کو یمن کے دارالحکومت صنعا پہنچے اور انہوں نے حکومت اور اپوزیشن رہنماؤں سے ملاقات کی اور تشدد کے خاتمے کے لیے زور دیا۔

یمن کے صدر علی عبداللہ صالح کے تینتیس سالہ اقتدا کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ رواں سال جنوری سے جاری ہے۔

ملک کے جنوبی میں واقع شہر تعز حکومت مخالف مظاہروں کا مرکز رہا ہے۔

تعز کے شہریوں کا کہنا ہے کہ حالیہ جھڑپیں جمرات کو ہونے والے ایک مظاہرے میں ایک شخص کی ہلاکت اور متعدد افراد کے زخمی ہونے کے بعد شروع ہوئیں۔

ان جھڑپوں کے بعد سکیورٹی فورسز نے رات کے وقت تعز شہر کے دو قریبی رہائشی علاقوں میں گولہ باری کی۔

تینتیس سال اقتدار پر براجمان عبد اللہ صالح ماضی میں بھی کئی بار اقتدار سے علیحدہ ہونے کا وعدہ کر کے اس سے پھر چکے ہیں۔ اس سے پہلے ان کا خلیج کی ریاستوں کے سربراہوں کے ساتھ اقتدار سے علیحدگی کا معاہدہ ہوا تھا لیکن اس کی پاسداری نہیں کی گئی۔

اسی بارے میں