بشارالاسد کو اقتدار چھوڑ دینا چاہیے‘

Image caption ’صدر بشار الاسد کو چاہیے کہ اقتدار سے علیحدہ ہونے سے پہلے سیاسی مذاکرات کا عمل شروع کریں‘

اردن کے شاھ عبداللہ نے بی بی سی کو ایک خصوصی انٹرویو میں کہا ہے کہ بشارالاسد کو ملک کے وسیع تر مفاد کے لیے مستعفی ہو جانا چاہیے۔

بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا ’میرے خیال میں اگر میں ان کی جگہ ہوتا تو میں اقتدار سے علیحدہ ہو جاتا۔‘

انہوں نے مزید کہا ’میں اقتدار سے علیحدہ ہو جاتا اور اس بات کو یقینی بناتا کہ جو بھی میری جگہ آئے وہ اس قابل ہو کہ وہ موجودہ صورتحال تبدیل کر سکے۔‘

شاہ عبداللہ نے کہا کہ صدر بشار الاسد کو چاہیے کہ اقتدار سے علیحدہ ہونے سے پہلے سیاسی مذاکرات کا عمل شروع کریں۔

اس سے قبل شام کے وزیر خارجہ ولید المعلم نے عرب لیگ کی جانب سے تنطیم میں شام کی رکنیت منجمد کرنے کے فیصلے پر سخت تنقید کی۔

انہوں نے اس اقدام کو ایک خطرناک قدم قرار دیا اور کہا ہے کہ یہ اقدام امریکی دباؤ میں لیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ شام اپنے موقف سے نہیں ہٹے گا اور شام کے خلاف کی جانے والی سازشیں ناکام ہوں گی۔

شام کے وزیر خارجہ کا یہ ردِعمل پیر کے روز اس وقت سامنے آیا جب عرب لیگ نے شام کی رکنیت منسوخ کردی۔ اس اقدام کے بعد شام کی قیادت پر جمہوریت پسند مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال اور تشدد کو روکنے کے لیے عالمی دباؤ میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔

شام کے سرکاری ٹی وی پر نشر ہونے والی پریس کانفرنس میں شامی وزیر خارجہ نے کہا ’شام آج اپنے سخت موقف کی قیمت بحران کی صورت میں دے رہا ہے۔ شام اپنے موقف سے نہیں ہٹے گا اور زیادہ مضبوط ہو گا ۔۔۔ شام کے خلاف تمام سازشیں ناکام ہوں گی۔‘

اسی بارے میں