’شام کے خلاف تمام سازشیں ناکام ہوں گی‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption عرب لیگ نے ہفتے کو ووٹنگ کے ذریعے شام کی رکنیت منجمد کردی تھی

شام کے وزیر خارجہ ولید المعلم نے عرب لیگ کی جانب سے تنطیم میں شام کی رکنیت منجمد کرنے کے فیصلے پر سخت تنقید کی ہے۔

انہوں نے اس اقدام کو ایک خطرناک قدم قرار دیا اور کہا ہے کہ یہ اقدام امریکی دباؤ میں لیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ شام اپنے موقف سے نہیں ہٹے گا اور شام کے خلاف کی جانے والی سازشیں ناکام ہوں گی۔

شام کے وزیر خارجہ کا یہ ردِعمل پیر کے روز اس وقت سامنے آیا جب عرب لیگ نے شام کی رکنیت منسوخ کردی۔ اس اقدام کے بعد شام کی قیادت پر جمہوریت پسند مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال اور تشدد کو روکنے کے لیے عالمی دباؤ میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔

شام کے سرکاری ٹی وی پر نشر ہونے والی پریس کانفرنس میں شامی وزیر خارجہ نے کہا ’شام آج اپنے سخت موقف کی قیمت بحران کی صورت میں دے رہا ہے۔ شام اپنے موقف سے نہیں ہٹے گا اور زیادہ مضبوط ہو گا ۔۔۔ شام کے خلاف تمام سازشیں ناکام ہوں گی۔‘

اس سے قبل عرب ریاستوں کی تنظیم عرب لیگ کے سربراہ نبیل الاعرابی نے کہا ’شام میں شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے تنظیم مختلف امور پر غور کررہی ہے‘

یہ بات انہوں نے عرب لیگ کی جانب سے تنطیم میں شام کی رکنیت منجمد کرنے کے فیصلے کے بعد کہی جس کے بعد شام میں حکومت کے حامی مظاہرین نے عرب لیگ کے فیصلے کے خلاف مظاہرے کیے۔

فرانس نے بھی شام کے صدر بشارالاسد کی حکومت کی مذمت کی ہے۔ فرانس نے پیرس میں تعینات شامی سفیر سے حکومت کے حامی مظاہرین کی جانب سے شام میں سفارتخانوں پر حملوں کی وضاحت طلب کی ہے۔

ترکی نے شام میں تعینات اپنے غیر ضروری سفارتی عملے اور ان کے اہلِ خانہ کو واپس بلانا شروع کردیا ہے۔ ترکی نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ ایک آواز ہوکر شام میں ہونے والی کارروائیوں پر مشترکہ ردعمل کا مظاہرہ کرے۔

ہفتے کو حکومت کے حامی مظاہرین کی جانب سے سعودی عرب اور قطر کے سفارتخانوں پر حملے ہوئے تھے جبکہ اتوار کو حکومت کی حمایت میں جلسے منعقد کیے گئے تھے۔

بدھ کو عرب لیگ میں شام کی رکنیت منجمد کیے جانے سے قبل شام نے عرب لیگ کے نمائندوں کو دعوت دی تھی کہ وہ شام کا دورہ کریں۔

دوسری جانب اتوار کو بھی حکومت کے مخالف مظاہرین پر تشدد جاری تھا اور اس دوران سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں نو افراد کے ہلاک ہونے کا اطلاع ہے۔

غیر مصدقہ اطلاعات ہیں کہ سکیورٹی فورسز نے دیرالزور کے علاقے میں ایک چودہ سالہ لڑکے کو حکومت کے حامی مارچ میں شرکت کرنے سے انکار پر زد و کوب کیا اور گولی مار کر ہلاک کردیا۔

اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ شام میں مارچ کے مہینے سے شروع ہونے والے حکومت کے خلاف مظاہروں کے دوران اب تک ساڑھے تین ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ تاہم شامی حکومت پرتشدد واقعات کا ذمہ دار دہشت گردوں کو قرار دیتی ہے۔

اقوامِ متحدہ کا کردار

لیبیا کے دارالحکومت طرابلس پہنچنے پر عرب لیگ کے سیکریٹری جنرل نبیل الاعرابی نے اس بارے میں تفصیلات نہیں بتائیں کہ تنظیم شام میں شہریوں کی حفاظت کے لیے کیا اقدامات کرسکتی ہے تاہم انہوں نے کہا کہ شام کی رکنیت کو منجمد کرنے کا فیصلہ ’تاریخی‘ ہے اور شام میں شہریوں کو تحفظ دینے کے لیے عالمی برادری کو آگے آنا ہوگا۔

انہوں نے کہا ’شام پر پابندیوں کا نفاذ کرنے کے لیے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل سے رجوع کرنا کسی بھی طور غلط نہیں کیونکہ وہ ہی واحد عالمی تنظیم ہے جو پابندیوں کا نفاذ کرسکتی ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ n
Image caption ترکی کے سفارتی عملے کے اہلِ خانہ شام سے واپس اپنے ملک روانہ ہورہے ہیں

قاہرہ میں بی بی سی نامہ نگار جون لین کا کہنا ہے کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ عرب لیگ کا مقصد اب شام کو تنہا کرنا ہے۔

سنیچر کو عرب لیگ نے ووٹنگ کے ذریعے شام کی رکنیت منجمد کردی تھی۔ شام نے عرب لیگ کے اس فیصلے کو غیرقانونی قرار دیا تھا اور اس نے کہا تھا کہ وہ عرب لیگ کے امن کے منصوبے پر پہلے ہی عملدرآمد شروع کرچکا ہے۔

اتوار کو شام نے عرب لیگ کا ہنگامی اجلاس طلب کرنے کی درخواست کی تھی۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ شام کی جانب سے عرب لیگ کے نمائندوں کو شام آنے کی دعوت دینا شامی حکومت کی جانب سے معنی خیز پیشکش ہے۔

شام اس بات سے بخوبی آگاہ ہے کہ عرب لیگ سے لیبیا کی رکنیت کی معطلی کے بعد اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے وہاں اتحادی فوج کو فوجی کارروائی کا اختیار دیا تھا جس کے باعث کرنل معمر قذافی کے اقتدار کا خاتمہ ہوا تھا۔

اسی بارے میں