امریکہ سے سکیورٹی معاہدہ مفاد میں ہے: کرزئی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جرگے کے مقام کی جانب جانے والی تمام سڑکیں عوام کے لیے بند کر دی گئی ہیں

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں بدھ کو لویہ جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے صدر حامد کرزئی نے کہا کہ وہ اپنے ہمسایہ ممالک ایران اور پاکستان کے ساتھ دوستی اور بھائی چارہ کی بنیاد پر روابط استوار کرنا چاہتے ہیں۔

لویہ جرگہ میں دو اہم نکات پر بات چیت کی جارہی ہیں جن میں طالبان کے ساتھ مصالحت کی غرض سے مذاکرات اور امریکی فوج کے انخلاء کے بعد امریکہ سے سٹریٹجک تعلقات کا تعین شامل ہیں۔

افغان صدر حامد کرزئی نے کہا کہ افغانستان امریکہ سے ایسے تعلقات کا خواہاں ہے جیسے دو خومختار ملکوں کے درمیان ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وہ نیٹو فورسز سے افغانستان کی فورسز کو کنٹرول دیے جانے کے دوسرے مرحلے کا بھی اعلان کریں گے۔

لویہ جرگے میں افغانستان کے صدر حامد کرزئی کا خطاب ختم ہونے کے بعد جرگے کے شرکاء نے اجلاس کا سربراہ اور نائب سربراہ کا انتخاب کیا۔ انتخاب کے بعد جرگے سے سربراہ نے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

کابل میں بی بی سی کے نامہ نگار سعید انور کا کہنا ہے لویہ جرگہ پولی ٹیکنیک یونیورسٹی کے قریب ایک ایسی جگہ منعقد ہورہا ہے جو لوگوں کے اجتماع کے لیے مختص ہے۔

طالبان کی جانب سے دھمکیوں کے پیشِ نظر لویہ جرگے کے مقام کے گرد و نواح میں انتہائی سخت سکیورٹی کے انتظامات کیے گئے ہیں جبکہ اس جانب جانے والی تمام سڑکوں کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کردیا گیا ہے۔

طالبان نے اس جرگے پر حملہ کرنے کی دھمکی دی ہوئی ہے اور دو دن قبل انہوں نے جرگے کے موقع پر سکیورٹی کے لیے حکومتی منصوبہ حاصل کرنے کا دعوٰی کیا تھا۔

طالبان کا کہنا ہے کہ اس جرگے میں شرکت کرنے والا ہر فرد ان کا ہدف ہوگا۔ اس جرگے میں افغانستان کے مختلف علاقوں سے دو ہزار مندوبین شریک ہو رہے ہیں۔

افغان صدر حامد کرزئی نے کہا کہ امریکہ اور افغانستان کے درمیان سکیورٹی کا معاہدہ دونوں ممالک کے عوام کے بہترین مفاد میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ کوئی بھی معاہدہ اسی وقت قابلِ عمل ہوسکتا ہے جب افغانستان کی خودمختاری کا احترام کیا جائے۔

انہوں نے کہا ’ہم امریکہ اور نیٹو سے مضبوط اشتراک چاہتے ہیں لیکن چند شرائط کے ساتھ۔‘

کرزئی کے بقول رات کے چھاپوں کا خاتمہ ہونا چاہیے جن کے دوران نیٹو کے فوجی مشتبہ شہریوں کے مکانات پر چھاپہ مارتے ہیں اور ان کے ملک کے لوگوں کو حراست میں لیتے ہیں۔

انہوں نے کہا ’ہم اپنی حکومت کے متوازی کوئی اور نظام نہیں چاہتے۔‘

کابل میں موجود بی بی سی کی نامہ نگار اورلا گیورین کا کہنا ہے کہ لویہ جرگے کو آغاز سے قبل ہی سیاسی اور شدت پسند مخالفین کی جانب سے حملوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

نامہ نگاروں کے مطابق لویہ جرگے کے موقع پر سخت حفاظتی انتظامات اس بات کی یاددہانی کرواتے ہیں کہ آج بھی افغانستان کو شدت پسندی سے کتنا بڑا خطرہ لاحق ہے۔

کابل میں بی بی سی کے نامہ نگار بلال سروری کے مطابق سکیورٹی فورسز نے جرگے کے مقام کے اطراف واقع مکانات کی تفصیلی تلاشی لی ہے اور جرگے کے موقع پر ہزاروں پولیس اہلکار تعینات ہیں۔ یہی نہیں بلکہ کابل شہر کے گردونواح میں بھی سکیورٹی اہلکار تعینات ہیں اور افغان عوام اپنے شناختی کارڈ دکھائے بغیر کابل شہر میں داخل نہیں ہو سکتے۔

کابل میں تعینات سفارتکاروں کا کہنا ہے کہ اس جرگے میں افغان صدر حامد کرزئی امریکہ کے ساتھ سٹریٹیجک شراکت داری کے متنازع معاہدے پر حمایت حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔ یہ معاہدہ سنہ 2014 کے بعد افغان اور امریکی حکومت کے تعلقات کا تعین کرے گا۔

تاہم ناقدین کا کہنا ہے اس وقت جب کہ وہ معاہدہ موجود ہی نہیں جس پر بحث ہو سکے، یہ جرگہ بےمعنی ہے۔ سیاسی مبصر ہارون میر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’میرے خیال میں یہ ایسا ہی ایک اور جرگہ ہوگا جس میں لوگ چائے پیئیں گے، کھانا کھائیں گے اور بات چیت کریں گے اور جس کے آخر میں صدر کرزئی فتح کا اعلان کر دیں گے۔ افغانستان میں بدقسمتی سے یہی ہوتا ہے‘۔

افغان حکام کا بھی کہنا ہے کہ اس جرگے میں کیے گئے فیصلوں پر عمل کرنے کی کوئی قانونی پابندی نہیں ہوگی اور حتمی فیصلہ افغان پارلیمان کا ہی ہوگا۔

امریکہ نے پیر کو اس جرگے پر اعتماد ظاہر کیا ہے اور کہا ہے کہ انہیں یقین ہے کہ یہ جرگہ افغان امریکہ تعلقات کو مزید مضبوط کرے گا۔ امریکی دفترِ خارجہ کے ترجمان مارک ٹونر نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ’امریکہ اور افغانستان اہم شراکت دار اور اتحادی ہیں اور ہمیں اعتماد ہے کہ یہ لویہ جرگہ اس شراکت داری کو مزید مضبوط کرے گا‘۔

اسی بارے میں