شام: فوجی بیس پر حملہ

شام تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption مارچ میں شروع ہونے والے مظاہروں کے بعد سے اب تک ساڑھے تین ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں

شام میں حزبِ اختلاف نے دعوٰی کیا ہے کہ شامی فوج کے باغیوں نے دمشق کے قریب ایک فوجی اڈے پر حملہ کیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق اس حملے میں ائر فورس انٹیلیجنس کی عمارت کے کئی حصے تباہ ہو گئے ہیں لیکن کوئی ہلاکت نہیں ہوئی ہے۔

شام میں جب سے صدر بشار الاسد کی حکومت کے خلاف تحریک شروع ہوئی ہے اس وقت سے فری سیرین آرمی نامی گروپ کا یہ سب سے بڑا حملہ ہے۔

یہ حملہ ایک ایسے وقت ہوا ہے جب عرب لیگ مظاہرین کے خلاف شامی حکومت کی کارروائیوں پر بات چیت کی تیاری کر رہی ہے۔

شامی حکومت نے غیر ملکی صحافیوں پر سخت پابندیاں عائد کی ہوئی ہیں جس کی وجہ سے تشدد کے واقعات کی تصدیق انتہائی مشکل ہے۔

اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ اس برس مارچ میں شروع ہونے والے مظاہروں کے بعد سے اب تک ساڑھے تین ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

شامی حکومت تشدد کے واقعات کی ذمہ داری مسلح گروپوں اور شدت پسندوں پر ڈالتی ہے۔

شامی فوج سے باغی ہونے والے اہلکاروں نے حالیہ ہفتوں میں کئی فوجی ٹھکانوں پر حملے کیے ہیں لیکن دمشق کے قریب حرستہ میں

ائر فورس انٹیلیجنس کی عمارت پر حملہ اب تک کا سب بڑا حملہ ہے۔

یہ حملہ اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ ائر فورس انٹیلیجنس شام کی سرکاری ایجنسیوں میں سے خطرناک سمجھی جاتی ہے اور صدر بشارالاسد کے خلاف ہونے والے مظاہروں کو کچلنے میں اس نے اہم رول اداد کیا ہے۔

اسی بارے میں