' فری سیرئین آرمی' کا مقصد ' آزادی'

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption ایف ایس اے شام کو ایک مسلم ملک اور سیکولر جمہوریت کے طور پر دیکھنا چاہتا ہے

شام میں جاری جمہوریت کی بحالی اور آزادی کی لڑائی میں سرگرم ' فری سیرئین آرمی' یعنی ایف ایس اے کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد عوام کے ساتھ مل کر ملک میں آزادی کی لڑائی لڑنا ہے۔

فری سیرئین آرمی ان فوجیوں کا گروپ ہے جو کبھی شام کی فوج کا حصہ تھا لیکن انہوں نے فوج چھوڑ کر حکومت مخالف محاذ بنایا اور اس برس مارچ میں شروع ہونے والے ملک گیر احتجاج میں حصہ لیا۔

فری سیرئین آرمی کے سربراہ اور سابق فوجی کرنل الاسد نے اگست میں دیئے گئے ایک بیان میں کہا تھا کہ ان کا مقصد عوام کے ساتھ مل کر لوگوں کو آزادی دلانا ہے اور اس غیر ذمہ دارانہ فوج کی مخالفت کرنی ہے جوجمہوریت مخالف حکومت کا ساتھ دے رہی ہے۔

فری سیرئین آرمی کتنی بڑی ہے اور اس میں کتنے ممبران ہیں یہ تو نہیں معلوم حالانکہ گروپ کا کہنا ہے کہ اکتوبر تک اس کے پندرہ ہزار ممبران بن گئے تھے۔ فری سیرئین آرمی کے مطابق اس کے پاس بائیس بٹالین فوج ہے اور دیرہ اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں اس کا زیادہ اثر ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Other
Image caption سابق فوجی اہلکار کرنل ریاض الاسد فری سیرئین آرمی کی قیادت کرتے ہیں

لیکن گروپ نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ وہ شام کی فوج کا مقابلہ نہیں کر سکتا ہے کیونکہ اس کی طاقت زیادہ ہے۔ لیکن اس کا دعوی ہے کہ ہر دن فوجی اہلکار شامی فوج چھوڑ کر ایف ایس اے کا حصہ بن رہے ہیں۔

ایف ایس اے شام میں کسی بھی خطہ پر حکمرانی نہیں کرتا ہے۔ کرنل اسد سمیت ایف ایس اے کے دیگر ممبران ترکی کے جنوبی خطے ہیتے میں قیام پزیر ہیں۔ ایف ایس اے اور ترکی دونوں اس بات سے انکار کرتے رہے ہیں کہ اس کے مسلح فوجی شام میں گھس رہے ہیں۔

گروپ کا کہنا ہے کہ ایف ایس اے ان فوجی اڈوں پر حملہ کرتا ہے جنہوں نے آزادی کی حامی مظاہرین پر یا تو حملے کیے ہیں یا پھر کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں ۔

ایف ایس اے ملک میں جاری کشیدگی میں بیرونی فوج کی مداخلت کی مخالفت کرتی ہے حالانکہ اس کا کہنا ہے کہ حال ہی میں ایف ایس کے رہنماوں نے امریکی سفارتکاروں سے ترکی میں ملاقات کی تھی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ انہیں اسلحے سے زیادہ خفیہ معلومات کے لیے امریکہ کی مدد چاہیے۔

ایف ایس اے کے سربراہ کا کہنا ہے کہ وہ کسی سیاسی پارٹی سے منسلک نہیں ہیں۔ انہوں نے ترکی کے اخبار ملیت کو بتایا تھا کہ ایف ایس اے شام کو ایک ' مسلم ملک اور سیکولر جمہوریت' کے طور پر دیکھنا چاہتا ہے۔ انہوں نے شام کی حکومت کے اس الزام کو غلط قرار دیا ہے کہ ایف ایس اے ’شامی اخوان المسلمون‘ سے منسلک ہے۔

شام میں حزب اختلاف کی جماعت سیرئین نیشنل کونسل نے ایف ایس اے کے لیے اپنی حمایت ظاہر کی ہے۔

گزشتہ بدھ کو شامی فوج کے باغیوں نے دمشق کے قریب ایک فوجی اڈے پر حملہ کیا تھا۔

اطلاعات کے مطابق اس حملے میں ائرفورس انٹیلیجنس کی عمارت کے کئی حصے تباہ ہو گئے تھے۔

شام میں جب سے صدر بشار الاسد کی حکومت کے خلاف تحریک شروع ہوئی ہے اس وقت سے فری سیرین آرمی کا یہ سب سے بڑا حملہ تھا۔

اسی بارے میں