سوچی کی پارٹي انتخابات میں حصہ لے گی

آنگ سان سوچی تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption آنگ سان سوچی کی پارٹی پر عائد پابندی ہٹا دی گئی ہے

برما میں جمہوریت کی حامی لیڈر آنگ سان سوچی کی پارٹی نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی یعنی این ایل ڈی نے اعلان کیا ہے کہ وہ دوبارہ انتخابات میں حصہ لے گی۔

پارٹی کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ این ایل ڈی اپنے آپ کو دوبارہ ایک سیاسی پارٹی کے طور پر رجسٹر کرائے گی تاکہ وہ مستقبل میں انتخابات میں حصہ لے سکے۔

انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ پارٹی کے تقریباً سو ممبران کی رنگون میں ہوئی ایک میٹنگ کے بعد کیا گیا ہے۔

پارٹی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ’ہم نے متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا ہے کہ سیاسی پارٹی کے رجسٹریشن کے اصول کے تحت این ایل ڈی اپنے آپ کو سیاسی طور پر رجسٹر کرائے گی اور ہم آئندہ ضمنی انتخابات میں حصہ لے گیں۔‘

سوچی کی پارٹی نے گزشتہ برس نومبر میں ہونے والے انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا۔ 2010 میں برما میں بیس سال بعد انتخابات ہوئے تھے لیکن سوچی کی پارٹی اس میں حصہ نہیں لے سکی تھی۔ ملک میں بعض ایسے قوانین تھے جس کے تحت سوچی کی پارٹی انتخابات سے دور رہی تھی۔

برما کی حکومت نے حال ہی میں قوانین میں بعض تبدیلی کر کے سوچی کی پارٹی پر عائد پابندی کو ہٹادیا تھا جس میں پارٹی پر انتخابات میں حصہ نہ لینے کی پابندی بھی عائد تھی۔

دراثناء امریکی حکام کا کہنا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ ہلری کلنٹن اگلے ماہ برما کا دورہ کریں گی۔ ہلری کلنٹن کو برما بھیجنے کے فیصلے سے پہلے امریکی صدر براک اوباما نے محترمہ سوچی سے فون پر بات کی ہے۔

پچاس سالوں میں ہلری کلنٹن پہلی امریکی وزیر خارجہ ہوں گی جو برما کا دورہ کریں گی۔

اس سے قبل رنگون میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار نے کہا تھا کہ سو چی کی پارٹی اپنی تحریک کو بڑھانے کے لیے آئندہ انتخابات میں حصہ لے گی۔

ضمنی انتخابات کب ہونگیں یہ ابھی طے نہیں ہوا ہے لیکن برمان میں ممبرپارلمیان کے وزراء بننے کے بعد پچاس پارلیمانی سیٹیں خالی ہوگئی تھیں جس کے لیے ضمنی انتخابات ہونے ہیں۔

اسی بارے میں