سیف الاسلام سے انصاف ہوگا: لیبیائی وزیراعظم

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption سیف السلام کی گرفتاری کے بعد سیف کو بذریعہ جہاز زنتان منتقل کر دیا گیا

لیبیا کی عبوری حکومت نے کہا ہے کہ کرنل قذافی کے بڑے صاحبزادے سیف الاسلام کو جنوبی لیبیا سےگرفتار کر لیاگیا ہے۔

عبوری کونسل کے وزیر انصاف محمد العلاقي نے کہا ہے کہ سیف الاسلام قذافی کو ملک کے جنوب مغربی صحرائی قصبے عباری میں گرفتار کیا گیا ہے جہاں سے انہیں شمالی لیبیا میں زنتان نامی شہر لایا گیا ہے۔

انتالیس سالہ سیف الاسلام قذافی خاندان کے آخری فرد ہیں جنہیں گرفتار یا ہلاک کیاگیا ہے۔ لیبیا کے نئے وزیراعظم کا کہنا ہے کہ سیف الاسلام پر منصفانہ انداز میں مقدمہ چلے گا۔

انتالیس سالہ سیف الاسلام جرائم کی بین الاقوامی عدالت کو بھی انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات میں مطلوب ہیں۔

سیف الاسلام کی گرفتاری کے بعد ان کی ایک تصویر فیس بک پر جاری کئی گئی ہے جس میں وہ ایک صوفے پر بیٹھے نظر آ رہے ہیں اور ان کے ہاتھ کی انگلیوں پر پلستر چڑھا ہوا ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے ایک فوٹوگرافر نےگرفتاری کے بعد سیف الاسلام سے ملاقات کی ہے جس میں انہوں نے بتایا کہ وہ ٹھیک ہیں اور ان کا ہاتھ ایک ماہ قبل نیٹو کے ایک حملے میں زخمی ہوا تھا۔

لیبیا کی عبوری کونسل کی حامی ملیشیا نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے سیف الاسلام قذافی کو صبا کے نزدیک عباری سےگرفتار کیا ہے۔ رنتان ملیشیا کے ایک کمانڈر وسام دغالی نے بتایا کہ سیف السلام کو ان کے ساتھیوں ابوبکر، خالد بن ولید کے ہمراہ گرفتار کیا جو انہیں پڑوسی ملک نائیجر پہنچانے کی کوشش کر رہے تھے۔

عبوری کونسل کے وزیرِ قانون کا کہنا ہے کہ سیف الاسلام کو جلد ہی طرابلس لایا جائے گا جبکہ عبوری وزیراعظم عبدالرحیم القیب نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ہم لیبیا کے عوام اور دنیا کو یقین دلاتے ہیں کہ سیف الاسلام سے انصاف ہوگا‘۔

اس سے قبل لیبیا کے وزیرِ اطلاعات محمود شمام نے کہا تھا کہ سیف الاسلام پر لیبیا میں ہی مقدمہ چلے گا۔ تاہم جرائم کی عالمی عدالت کے ترجمان فدی عبداللہ نے کہا ہے کہ لیبیا قانونی طور سیف الاسلام کو عالمی عدالت کے حوالے کرنے کا قانونی طور پر پابند ہے جہاں ان پر انسانیت کے خلاف جرائم کا مقدمہ زیر التوا ہے۔

برطانوی یونیورسٹی لندن سکول آف اکنامکس سے تعلیم یافتہ سیف الاسلام کو کرنل معمر قذافی کا جانشین تصور کیا جاتا تھا۔

سیف الاسلام کی گرفتاری کے ساتھ ہی طرابلس میں خوشیاں منائی جا رہی ہیں اور لوگ خبر سن کی سڑکوں پر نکل آئے۔

لیبیا کے سابق رہنما کرنل قذافی کی ہلاکت کے موقع پر ایسی اطلاعات سامنے آئی تھی کہ سیف الاسلام کو بھی زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا ہے جو بعد میں غلط ثابت ہوئیں۔

.

اسی بارے میں