افغانستان:مجوزہ امریکی معاہدے کے خلاف مظاہرہ

کرزئی تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption چار روزہ جرگے میں قبائلی رہنماؤں نے معاہدے کے لیے مشروط حمایت کا اعلان کیا ہے۔

مشرقی افغانستان میں ایک ہزار کے قریب افراد نے ملک میں امریکی فوج کے دو ہزار چودہ کے بعد قیام کے مجوزہ منصوبے کے خلاف مظاہرہ کیا ہے۔

مطاہرین جن میں زیادہ تعاد طلبا کی تھی مرکزی شاہرہ بند کر دی ہے۔

افغانستان میں تعینات غیر ملکی افواج کو دو ہزار چودہ میں واپس چلے جانا ہے۔ لیکن نئے تجویز کردہ منصوبے کے مطابق امریکہ کے ساتھ دس سال پر محیط سکیورٹی معاہدہ کیا جائے گا۔

اس سے پہلے افغانستان کے صدر حامد کرزئی امریکہ کے ساتھ دس سالہ سٹریٹیجک تعاون پر بات چیت کے لیے قبائلی رہنماؤں اور عمائدین کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔

مجوزہ منصوبے کے تحت امریکی فوج دو ہزار چودہ میں دیگر بین القوامی افوج کے انخلا کے بعد بھی افغانستان میں رہے گی۔

لیکن کابل میں ہوئے روایتی لویہ جرگے میں شامل مندوبین نے اس منصوبے کے لیے بعض شرائط رکھی ہیں۔

بی بی سی کی نامہ نگار اورلا گورین کے مطابق چار روزہ جرگے میں شامل مندوبین نے منصوبے کی حمایت تو کی ہے لیکن ان کی جانب سے پیش کی گئی شرائط کسی معاہدے تک پہنچنے میں رکاوٹ بھی ہو سکتی ہیں۔ پہلے ہی اس مسئلے پر ہونے والے مذاکرات لگ بھگ ایک سال جاری تھے۔

جرگے کے مندوبین نے بین القوامی فوج کی جانب سے رات کے وقت کیے جانے والے حملوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا جنہیں افغان نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ دوسری جانب امریکی فوجی ایسے حملوں کو ناگزیر قرار دیتے ہیں۔

مندوبین نے قیدیوں کو افغان حکام کی حراست میں دینے کے ساتھ ساتھ ان امریکی شہریوں کے خلاف مقدمات چلانے کا مطالبہ کیا جنہوں نے افغانستان میں جرائم کیے۔

جرگے میں ان طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کی بھی تائید کی گئی جو تشدد ترک کرنے کے خواہش مند ہیں۔

تاہم جرگے کے فیصلے قانونی طور پر پارلیمان سے جڑے نہیں ہوتے آخری فیصلہ ملکی پارلیمان ہی کرتی ہیں۔

اسی بارے میں