سگریٹ کمپنی کا حکومت کے خلاف مقدمہ

فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption سگریٹ پر ٹریڈ مارک کے نا ہونے سے جعلی برانڈ ابھریں گے

سگریٹ بنانے والی معروف کمپنی فلپ مورس نے سگریٹ کے پیکٹ سے متعلق نیا قانون بنانے پر آ‎سٹریلیا کی حکومت کے خلاف مقدمہ دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

نئے آ‎سٹریلوی قانون کے مطابق دسمبر دوہزار بارہ سے سگریٹ کے پیکٹس بالکل سادے ہوں گے۔

اس نئے قانون کے تحت سگریٹ کی خرید و فروخت بھورے رنگ کے ان پیکٹس میں ہی ہوگی جن پر صحت سے متعلق پیغامات درج ہوں۔

حکومت کا کہنا ہے کہ ’یہ قانون عوام کی صحت کے تعلق سے آسٹریلیا کی تاریخ میں ایک اہم قدم ہے۔‘

لیکن کمپنی ’فلپ مورس ایشیاء'‘ کا کہنا ہے کہ یہ قانون سرمایہ کاری سے متعلق فریقین کے درمیان ہوئے معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ اس نے ہانگ کانگ کے ساتھ دو طرفہ سرمایہ کاری کی معاہدے کی خلاف ورزی پر نوٹس جاری کیا ہے۔ کمپنی نے آ‎سٹریلیاء کے گھریلو قوانین کے تحت ہر جانے کا دعوی کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔

’فلپ مورس ایشیاء‘ کا کہنا ہے کہ سگریٹ کے پیکٹس سے اس کا ٹریڈ مارک ہٹنے سے اسے مالی نقصان پہنچےگا اور بہت سے جعلی برانڈ ابھریں گے۔

کمپنی کی ترجمان اینی ایڈورڈ نے کہا ’حکومت نے یہ قانون بغیر یہ بتائے منظور کر لیا ہے کہ آخر تمباکو نوشی کوکم کرنے میں یہ کیسے موثر ہوگا، اس نے سادہ پیکٹس سے متعلق قانونی پیچدگیوں کے تئیں آ‎سٹریلیا اور عالمی سطح پر پائی جانے تشویش کو بھی نظرانداز کر دیا ہے۔‘

کمپنی چاہتی ہے کہ اس قانون کو فوری طور پر معطل کر دیا جائے۔ اس کے مطابق اس کے نفاذ سے اسے اربوں ڈالر کا نقصان ہوگا جس کے لیے وہ ہر جانے کا دعوی کریگی۔

سگریٹ بنانے والی دوسری بڑی کمپنی ’ برٹش امیرکن ٹوبیکو‘ نے پہلے کہا تھا کہ یہ قانون انٹرنیشنل ٹریڈ مارک اور انٹلیکچول پراپرٹی کے قوانین سے متصادم ہوتا ہے۔

نئے قانون کے تحت سگریٹ کے پیکٹس پر صرف برانڈ اور پروڈکٹ کا نام ایک ہی معیار کے رنگ، فونٹ جگہ اور سٹائل میں درج ہوگا۔

اسی بارے میں