مصر، فوج پر اقتدار کی منتقلی کے لیے دباؤ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption مظاہرین کو اندیشہ ہے کہ انتخابات کا جو بھی نتیجہ نکلےفوج اقتدار منتقل نہیں کرے گی

مصر کے دارالحکومت قاہرہ کے التحریر سکوائر میں فوج پر اقتدار کی جلد منتقلی کے لیے دباؤ ڈالنے کے لیے مظاہرین جمع ہونا شروع ہو گئے ہیں۔

التحریر سکوائر کے آس پاس سڑکوں پر ایک بار پھر فسادات شروع ہیں گئے اور بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق صورتحال بہت کشیدہ ہے۔

تین روز سے جاری مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں میں اٹھائیس افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے ہیں۔

اس فسادات کی وجہ سے اگلے ہفتے ہونے والے انتخابات کا ہونا مشکوک ہوگیا ہے۔

مظاہرین کو اندیشہ ہے کہ انتخابات کا جو بھی نتیجہ نکلےفوج اقتدار منتقل نہیں کرے گی۔

دوسری جانب فوجی کونسل سیاسی رہنماؤں سے مذاکرات کر رہی ہے۔ یہ مذاکرات اس وقت شروع ہوئے جب فوج کی نامزد کردہ کابینہ پیر کو مستعفی ہو گئی تھی۔

ان مذاکرات میں انتخابات میں سب سے زیادہ مضبوط جماعت اخوان المسلمین بھی شامل ہے۔ تاہم اس جماعت نے آج یعنی منگل کو ہونے والے مظاہروں میں حصہ لینے سے انکار کردیا ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگاروں کے مطابق اخوان المسلمین کا مظاہروں میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ اس لیے بھی ہو سکتا ہے کہ یہ جماعت چاہتی ہے کہ انتخابات مقررہ وقت پر ہوں۔

ان مذاکرات کے حوالے سے فوجی کونسل کے فیلڈ مارشل محمد حسین سرکاری ٹی وی پر اعلان بھی کریں گے۔

منگل کے روز ہزاروں کی تعداد میں لوگ التحریر سکوائر میں جمع ہونے شروع ہو گئے ہیں۔ اور سینکڑوں مظاہرین رات ہی سے سکوائر میں موجود تھے۔

اسی بارے میں