بحرین: تحقیقاتی رپورٹ میں تشدد ثابت

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption خواتین کو اعترافی بیانات حاصل کرنے کے لیے جنسی زیادتی کی دھمکی بھی دی گئی: تحقیقاتی رپورٹ

بحرین میں اس سال فروری میں جمہوریت کے حق میں ہونے والے احتجاج کو کچلنے کی حکومتی کارروائیوں کی تحقیقات کرنے والے ایک آزاد کمیشن کے سربراہ نے اپنی رپورٹ میں مظاہرین کے ساتھ ناروا سلوک کا نقشہ کھینچا ہے۔

بحرین کے بادشاہ نے عوام سے وعدہ کیا ہے کہ وہ سکیورٹی فورسز کی جانب سے اس ناروا سلوک کے تدارک کے لیے اصلاحات لائیں گے جبکہ امریکہ نے بحرین میں حقوقِ انسانی کی خلاف ورزیوں پر تشویش ظاہر کی ہے۔

شیعہ اکثریتی آبادی والے بحرین میں سنّی حکمران ہیں اور یہاں فروری اور مارچ میں ہونے والے پرتشدد واقعات میں چالیس افراد مارے گئے تھے جبکہ پندرہ سو سے زائد کو حراست میں لیا گیا تھا۔ کمیشن نے تحقیقات کے دوران پانچ ہزار افراد سے بات چیت کی تھی۔

تحقیقاتی کمیشن کے سربراہ شریف باسیونی نے کہا ہے کہ گرفتار ہونے والے مظاہرین کو آنکھوں پر پٹیاں باندھ کر کوڑے مارے گئے، مارا پیٹا گیا، بجلی کے جھٹکے لگائے گئے اور گرفتار ہونے والی خواتین کو اعترافی بیانات حاصل کرنے کے لیے جنسی زیادتی کی دھمکی بھی دی گئی۔

شریف باسیونی نے کہا کہ حکومت نے ان کارروائیوں کی اجازت نہیں دی تھی لیکن اس کے باوجود ایسا کر کے بحرین کے قانون کو توڑا گیا اور ملوث اہلکاروں کا احتساب بھی نہیں ہوا۔

کمیشن کی رپورٹ کے مطابق بحرین کے سرکاری میڈیا نے اس احتجاج میں ایران کے ملوث ہونے کا جو الزام لگایا تھا اس بارے میں کوئی شواہد نہیں ملے۔

شریف باسیونی نے کہا ہے کہ جن مظاہرین کو سزائیں سنائی گئی ہیں ان کے مقدمات پر نظر ثانی ہونی چاہیے اور ان مظاہرین کے ورثاء کو معاوضہ ملنا چاہیے جو یا تو سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں قتل ہوئے یا جنہیں حراست کے دوران تشدد برداشت کرنا پڑا۔

بحرین کے بادشاہ شیخ حماد بن عیسیٰ نے ایک ہزار لوگوں کے مجمع کی موجودگی میں اس رپورٹ کو سنا اور کہا کہ ملک میں بے چینی کا سبب بننے والی زیادتیوں اور امتیاز کو ختم کرنے کا وقت آگیا ہے۔

انہوں نے کہا ’آپ کی اس رپورٹ سے بحرین کو تاریخی موقع ملا ہے کہ سنگین اور ہنگامی نوعیت کے معاملات سے نمٹے اور غیرذمہ داری کا مظاہرہ کرنے والے اہلکاروں کا احتساب ہو اور انہیں ہٹایا جائے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ ہمیں ان اصلاحات پر عملدرآمد کرنا چاہیے جو آبادی کے تمام حصوں کی تسلی کا باعث ہوں‘۔

دریں اثناء امریکی وزیرِ خارجہ نے بحرین میں تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ پر اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ حقوقِِِِ انسانی کی یہ خلاف ورزیاں تشویشناک ہیں اور انہیں امید ہے کہ یہ آزادانہ تحقیقاتی رپورٹ بحرین میں اصلاحات کا راستہ ہموار کرے گی۔

اسی بارے میں