بارودی سرنگوں کے استعمال میں اضافہ

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption 2010 میں دس لاکھ سے زائد بارودی سرنگیں اور دھماکہ خیز مواد تلف کیا گیا

بارودی سرنگوں کے بارے میں ایک بین الاقوامی سروے سے پتہ چلا ہے کہ سنہ دو ہزار چار کے بعد گزشتہ برس سب سے زیادہ ممالک نے بارودی سرنگوں کا استعمال کیا اور دنیا بھر میں چار ہزار سے زائد افراد ان سرنگوں کا شکار بنے۔

لینڈ مائن مانیٹر رپورٹ میں کہا گیا ہے اگرچہ دو ہزار دس میں دنیا بھر میں ریکارڈ علاقہ بارودی سرنگوں سے پاک کیا گیا تاہم بارودی سرنگوں کے استعمال میں بھی اضافہ ہوا۔

شام، لیبیا، برما اور اسرائیل وہ چار ممالک ہیں جنہوں نے اس سال نئی بارودی سرنگیں بچھائیں۔ ان چاروں ممالک نے اب تک ان سرنگوں پر پابندی کے بین الاقومی معاہدے پر دستخط بھی نہیں کیے ہیں۔

سروے کے مطابق ان چاروں ممالک کے علاوہ افغانستان، کولمبیا، برما اور پاکستان میں مسلح گروہوں نے بھی نئی بارودی سرنگیں بچھائیں۔

لینڈ مائن مانیٹر کا قیام سنہ انیس سو اٹھانوے میں عمل میں آیا تھا۔ اس کی تازہ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بارودی سرنگیں صاف کرنے اور اس سے متاثرہ افراد کی مدد کے لیے فنڈنگ بھی سنہ دو ہزار دس میں چھ سو سینتیس ملین ڈالر کی ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی ہے۔

دنیا کے ایک سو اٹھاون ممالک میں سے اسّی فیصد نے بارودی سرنگوں پر پابندی کے اوٹاوا معاہدے پر دستخط کیے ہوئے ہیں۔

سروے کے مطابق دو ہزار دس کے دوران دو سو مربع کلومیٹر علاقے سے بارودی سرنگیں صاف کی گئیں جبکہ چار سو ساٹھ مربع کلومیٹر پر مشتمل ایسا علاقہ بھی صاف کیا گیا جو کہ سابقہ میدانِ جنگ تھا۔ اس کام کے دوران دس لاکھ سے زائد بارودی سرنگیں اور دھماکہ خیز مواد تلف کیا گیا۔

سروے میں بتایا گیا ہے کہ دنیا میں بارودی سرنگوں کا نشانہ بننے والے افراد کی تعداد میں کمی آئی ہے لیکن گزشتہ برس بھی چار ہزار سے زائد افراد ان کا نشانہ بن کر زخمی یا ہلاک ہوئے۔

لینڈ مائن مانیٹر کے لورین پرسی ونسنٹ کا کہنا ہے کہ بارودی سرنگ سے زخمی ہونے والے افراد کی تعداد ہر برس بڑھ رہی ہے۔

ان کے مطابق ’بارودی سرنگوں سے متعلق جتنی بھی امداد ملتی ہے اس کا صرف نو فیصد ایسے افراد پر خرچ کیا جا رہا ہے جنہیں اپنی بقیہ ساری زندگی مدد کی ضرورت ہے‘۔

اسی بارے میں