بحرین، پرتشدد کارروائیوں کا سلسلہ جاری

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption بحرین کے شیعہ مظاہرین حکومت سے ملک میں جمہوری اصلاحات لانے کا مطالبہ کر رہے ہیں

بحرین کے فرمانرواہ حماد بن عیسیٰ الخلیفہ کی جانب سے مظاہرین کے خلاف پرتشدد کارروائیاں کم کرنے کے وعدے کے باوجود ملک میں تشدد کا سلسلہ جاری ہے۔

ایک کارکن نے بتایا کہ پولیس نے جمعرات کو ایک جنازے پر اشک آور گیس اور ربڑ کی گولیاں چلائیں جو مبینہ طور پر ان کے تشدد سے ہلاک ہوا تھا۔

اس چھپے ہوئے کارکن نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ عبدلمادی کے جنازے میں ہزاروں افراد شریک تھے اور جب ہم ان کے جنازے کو زمین پر رکھ رہے تھے تو سکیورٹی فورسز نے اشک آور گیس اور ربڑ کی گولیاں چلائیں۔

دوسری جانب بحرین کی وزارتِ داخلہ نے بی بی سی کو جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ پانچ سو افراد نے جنازے کے بعد غیر قانونی ریلی نکالی۔

بیان کے مطابق مظاہرین نے سٹرکوں کو بلاک کرنے کے بعد پولیس پر پتھر برسائے جس کے بعد یہ کارروائی کی گئی۔

دوسری جانب پولیس کا کہنا ہے کہ مرنے والا شخص ٹریفک حادثے کا شکار ہوا اور اس کی ہلاکت کے بعد غیر قانونی ریلی نکالی گئی۔

بحرین میں اس سال فروری میں جمہوریت کے حق میں ہونے والے احتجاج کو کچلنے کی حکومتی کارروائیوں کی تحقیقات کرنے والے ایک آزاد کمیشن کے سربراہ نے اپنی رپورٹ میں مظاہرین کے ساتھ ناروا سلوک کا نقشہ کھینچا ہے۔

کمیشن کی رپورٹ میں فروری سے شروع ہونے والے حکومت مخالف مظاہروں کے بارے تفصیل جاری ہونے کے بعد بادشاہ حماد سکیورٹی فورسز کی جانب سے اس ناروا سلوک کے تدارک کے لیے اصلاحات لانے کا وعدہ کرنے پر مجبور ہوئے۔

اس رپورٹ میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے نہتے مظاہرین کے خلاف ہونے والے برے سلوک کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔

بحرین کے شیعہ مظاہرین حکومت سے ملک میں جمہوری اصلاحات لانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ بحرین کی سکیورٹی فورسرز نے رواں سال شیعہ مظاہرین کے خلاف کارروائی کی تھی۔

اسی بارے میں