عرب لیگ کی شام کو دی گئی مہلت ختم

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عرب لیگ نے قاہرہ میں جمعرات کو ایک اجلاس میں شام کو مبصرین کی اجازت دینے کا الٹی میٹم دیا تھا

عرب لیگ کی شام کو دی گئی مہلت ختم ہو گئی ہے جس کے تحت شام ایک نگراں مشن کو ملک میں آنے کی اجازت دے نہیں تو اس کے خلاف پابندیاں عائد کر دی جائیں گی۔

شام نے عرب لیگ کے اس الٹی میٹ کا کوئی جواب نہیں دیا ہے۔

عرب لیگ کی اس ضمن میں شامی حکومت کو دی گئی مہلت جمعہ کو گرینج کے معیاری وقت کے مطابق گیارہ بجے تک تھی۔

عرب لیگ کا کہنا تھا شام امن معاہدے پر عمل درآمد کی نگرانی کے لیےمصبرین کو ملک میں آنے کی اجازت دینے کا معاہدہ کرے۔

شام چاہتا ہے کہ عرب لیگ اس منصوبے میں رد و بدل کرے جس کے تحت وہ پانچ سو مبصرین کے ایک مشن کو شام بھیجنا چاہتا ہے۔

اطلاعات کے مطابق شام چالیس مبصرین کو ملک میں آنے کی اجازت دینے پر تیار ہے۔

اس ماہ کے اوائل میں عرب لیگ نے شام کی رکنیت معطل کر دی تھی اور خبردار کیا تھا کہ امن منصوبے پر عملدرآمد نہ ہونے کی صورت میں اس کے خلاف پابندیاں عائد کر دی جائیں گی۔

امکان ہے کہ ان پابندیوں میں شام کے ساتھ کمرشل پروازیں معطل کرنے اور اس کے مرکزی بینک کے ساتھ لین دین روکنا شامل ہو گا۔

دریں اثناء شام میں حزب مخالف کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ جمعہ کو تشدد کے واقعات میں مزید گیارہ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

اس کے علاوہ اقوام متحدہ نے ان اطلاعات پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ شامی سکیورٹی فورسز بچوں پر تشدد کر رہی ہیں۔

دوسری جانب شام میں فوجی اہلکاروں کے منحرف ہو کر حزبِ مخالف کے ساتھ شامل ہونے کے مزید شواہد سامنے آئے ہیں۔

چھپ کر شام میں داخل ہونے والے بی بی سی کے ایک نامہ نگار نے بتایا کہ کم تعداد میں لیکن تواتر سے فوجی اہلکار شام کی حکومت سے منحرف ہو کر مخالفین کے ساتھ شامل ہو رہے ہیں۔

منحرف ہو کر حکومت مخالف تحریک کے مرکزی شہر حمص پہنچنے والے فوجیوں نے بی بی سی کے نامہ نگار کو بتایا کہ انھوں نے حزبِ مخالف کے ساتھ شامل ہونے کا فیصلہ جمہوریت کے حامی مظاہرین پر گولی چلانے کے احکامات کے بعد کیا ہے۔

قوام متحدہ کے مطابق شام میں مارچ سے جاری حکومت مخالف مظاہروں میں ساڑھے تین ہزار لوگ مارے جا چکے ہیں۔

ملک کے صدر بشارالاسد مسلح گروہوں اور عسکریت پسندوں کو اس تشدد کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔

عرب لیگ نے شام میں مزید کسی تشدد کی روک تھام کے لیے اقوامِ متحدہ سے بھی مدد کی اپیل کی ہے۔

شام میں غیر ملکی صحافیوں کا داخلہ ممنوعہ ہے اور جو غیر ملکی صحافی وہاں موجود ہیں وہ آزادی سے اپنا کام نہیں کرسکتے ہیں اسی لیے شام سے موصول ہونے والی خبروں کی آزادانہ تصدیق ہونا مشکل ہے۔

اسی بارے میں