کمان کی منتقلی، دوسرے مرحلے کا اعلان

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption توقع ہے کہ اعلان کردہ شہروں، صوبوں اور شہروں کے کنٹرول کی منتقلی کا عمل رواں ہفتے شروع ہو جائے گا

افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے ان صوبوں اور شہروں کے ناموں کا اعلان کر دیا ہے جن کا کنٹرول نیٹو افواج سے افغان سکیورٹی فورسز کے حوالے کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ سترہ جولائی سنہ 2011 سے افغانستان میں تعینات نیٹو افواج نے ملک کے مختلف علاقوں کی سکیورٹی کی ذمہ داریاں افغان فوج اور پولیس کو سونپنا شروع کر دی تھیں۔ یہ اس عمل کا دوسرا مرحلہ ہے جس کے تحت سنہ 2014 تک افغانستان کا مکمل کنٹرول افغان افواج کو سونپ دیا جائے گا۔

جولائی میں سات شہروں اور صوبوں کا کنٹرول افغان سکیورٹی فورسز کے حوالے کیا گیا تھا۔

دوسرے مرحلے کے تحت چھ صوبوں، سات شہروں اور درجنوں اضلاع کا کنٹرول افغان سکیورٹی فورسز کو سونپا جائے گا۔

اس میں صوبہ ہلمند کے ضلع نادِ علی کا کنٹرول بھی افغان سکیورٹی فورسز کے حوالے کیا جائے گا۔

اس ضلع میں مزاحمت کاروں اور برطانوی افواج کے مابین شدید جھڑپیں ہو چکی ہیں۔

اس ضلع میں اٹھارہ سو برطانوی فوجی تعینات ہیں۔

صوبہ ہلمند کے ضلع مرجا اور ناوا کا کنٹرول بھی افغان سکیورٹی فورسز کے سپرد کیا جائے گا۔

صوبے میں ٹاسک فورس کے سربراہ بریگیڈئیر پیٹرک سینڈرز نے صدر حامد کرزئی کے اعلان کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ ضلع نادِ علی میں گزشتہ ایک سال کے دوران بہت زیادہ پیش رفت ہوئی ہے اور یہاں پر تشدد واقعات میں67 فیصد کمی آئی ہے۔

اس کے علاوہ شمال مشرقی صوبے تخار کا کنٹرول بھی حوالے کیا جا رہا ہے جہاں پر حال ہی میں راکٹ حملے ہو چکے ہیں جب کہ اعلیٰ افغان اہلکار بھی مختلف حملوں میں ہلاک ہو چکے ہیں۔

واضح رہے کہ اس وقت افغانستان میں ایک لاکھ چالیس ہزار کے قریب غیر ملکی فوجی تعینات ہیں جن میں تقریباً ایک لاکھ امریکی فوجی ہیں۔

افغانستان سے جنگی فوجیوں کی واپسی کے بعد افغانستان میں قیام کرنے والی غیر ملکی فورسز کے ذمے افغان سکیورٹی فورسز کی تربیت اور انھیں جدید ہتھیاروں سے مسلح کرنا ہو گا۔

اسی بارے میں