فوجیوں کی ہلاکت پر احتجاج، حملہ’غیر ارادی‘ تھا: نیٹو

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حملے میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کی تدفین کر دی گئی

نیٹو کے سربراہ آندرے راسموسن نے ہفتے کو پاکستان کی سرحدی چوکی پر نیٹو کے حملے میں چوبیس پاکستانی فوجیوں کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے ایک ’غیر ارادی فعل‘ قرار دیا ہے۔

آندرے راسموسن نے پاکستان کے وزیر اعظم کو ایک خط تحریر کیا ہے جس میں انہوں نے واضح کیا ہے کہ پاکستانی فوجیوں کی ہلاکت ہے’ ناقابل قبول اور افسوسناک ‘ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس واقع کی نیٹو کی طرف سے تحقیقات کی وہ بھرپور تائید کرتے ہیں۔

پاکستانی فوجیوں کی تدفین، تصاویر

ادھر پاکستان نے امریکہ اور برطانیہ کو افغانستان میں موجود اتحادی افواج کے لیے رسد کی فراہمی کے راستے بند کرنے اور امریکہ سے شمسی بیس پندرہ روز میں خالی کروانے کے بارے میں پاکستان کی کابینہ کی دفاعی کمیٹی کے فیصلے سے آگاہ کر دیا ہے۔

پاکستان کی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے امریکی اور برطانوی وزرائے خارجہ کو پاکستان کی کابینہ کی دفاعی کمیٹی سے فیصلوں سے آگاہ کیا۔ پاکستانی وزیر خارجہ نے ترک وزیر خارجہ سے بات چیت کی ہے۔

پاکستان نے افغانستان میں موجود نیٹو اور ایساف کی طرف سے پاکستانی فوج کی چوکیوں پر حملے کے خلاف افغانستان کی حکومت سے احتجاج کیا ہے اور کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف افغانستان کی سرزمین کا استعمال افغانستان میں کارروائیوں کے لیے ایساف کے مینڈیٹ کی بھی خلاف ورزی ہے۔

احتجاجی مراسلے میں کہاگیا ہے کہ افغانستان کی حکومت ایسے ضروری اقدامات کرے تاکہ اس کی سرزمین سے پاکستان کے خلاف ایسے واقعات رونما نہ ہوں

پاکستان کی وزرات خارجہ کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے اتوار کو اپنے امریکی ہم منصب ہیلری کلنٹن کو ٹیلیفون کیا۔

بیان کےمطابق وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے امریکی وزیر خارجہ کو مہمند ایجنسی میں نیٹو اور ایساف کے حملے میں چوبیس پاکستانی فوجیوں کی ہلاکت کے واقعہ پر ’پورے پاکستان میں پائے جانے والے شدید غم و غصے کے بارے میں آگاہ کیا۔‘

بیان کےمطابق حنا ربانی کھر نے زور دیا کہ ایسے حملے ناقابل قبول ہیں اور یہ بین لااقوامی قوانین اور انسانی زندگی لاپرواہی کا اظہار ہے نیز یہ حملے پاکستان کی اقتدار اعلیٰ کی بھی خلاف ورزی ہیں۔‘

بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ یہ حملہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات کو بہتر کرنے کے لیے ہونے والے پیشرفت کی بھی نفی کرتا ہے اور ایسی کارروائیاں پاکستان کو تعاون کی شرائط پر نظر ثانی کے لیے مجبور کرتی ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نےانسانی جانوں کی ضیاع پر پاکستانی ہم منصب سے سے تعزیت کی۔

وزارتِ خارجہ کہ بیان کے مطابق امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ وہ اس واقعہ سے انھیں دکھ پہنچا ہے۔

بیان میں کہاگیا ہے کہ ہلری کلنٹن نے اپنی پاکستانی ہم منصب کو امریکی حکومت کی اس خواہش سے آگاہ کہ وہ اس معاملے کے حل کے لیے پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتا ہے۔