مصر انتخابات: عوامی جوش وخروش برقرار

Image caption سابق صدر حسنی مبارک کے بعد مصر میں پہلے پارلیمانی انتخابات ہورہے ہیں

مصر میں جاری پارلیمانی انتخابات کے پہلے مرحلے میں ووٹنگ کا دورانیہ بڑھائے جانے کے بعد دوسرے دن بھی بڑی تعداد میں عوام نے ووٹ ڈالے ہیں۔

پیر کو انتخابات کے پہلے دن حکمران فوجی کونسل نے ووٹرز کی بڑی تعداد اور انتظامی مشکلات کے پیشِ نظر ووٹنگ کے دورانیے کو بڑھا دیا تھا۔

مصر کی عوام تین مراحل میں نئی پارلیمان کا انتخاب کریں گے اور یہ انتخابی عمل آئندہ سال مارچ تک جاری رہے گا۔

انتخابات کے پہلے مرحلے کے دوران نو صوبوں میں پیر اور منگل کو ووٹنگ ہوئی ہے جبکہ دیگر صوبوں میں دسمبر اور جنوری کے آغاز میں انتخابات کا انعقاد ہو گا۔

مصر میں سابق صدر حسنی مبارک کی رواں برس فروری میں اقتدار سے علٰیحدگی کے بعد پیر سے شروع ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے پہلے مرحلے میں بڑی تعداد میں لوگوں نے حصہ لیا ہے۔

پانچ سو آٹھ ارکان پر مشتمل اسمبلی کے لیے پیر کو انتحابات کے موقع پر پولنگ مراکز پر رائے دہندگان کی لمبی قطاریں لگی ہوئیں تھیں۔

انتخابات سے پہلے خطرہ محسوس کیا جا رہا تھا کہ ملک میں حکمران فوجی کونسل کے خلاف احتجاج کے باعث انتخابات کے انعقاد میں تاخیر ہو سکتی ہے۔

دوسری جانب مصر کی تجارتی برادری نے انتخابات کے دوران فسادات کی کمی اور امن و امان کی بہتر صورتحال کا ختر مقدم کیا۔ مصری سٹاک ایکسچینج میں آج پانچ فیصد کا اضافہ ہو گیا جس کی وجہ سٹاکس کے لین دین پر عارضی پابندی لگا دی گئی۔

تحریر سکوائر پر احتجاج جاری

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

انتخابات کا بائیکاٹ کرنے والے احتجاجی مظاہرین اب بھی دارالحکومت قاہرہ کے تحریر سکوائر میں ڈیرہ ڈالے بیٹھے ہیں۔ یہ وہ مقام ہے جہاں سے سابق صدر حسنی مبارک کے خلاف احتجاجی تحریک کا آغاز ہوا تھا۔

تحریر سکوائر پر احتجاج میں شریک لوگ مطالبہ کر رہے ہیں کہ مصر کی فوجی کونسل اقتدار کو سویلین حکومت کے حوالے کرنے کے بعد انتخابات کرائے۔

قاہرہ میں بی بی سی کے نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ رائے دہندگان بڑی تعداد میں ووٹ ڈالنے نکلے ہیں جس سے مظاہرین کی مہم کو دھچکا لگا ہے۔

اس سے پہلے فوجی کونسل کے سربراہ حسین طنطاوی نے خبردار کیا تھا کہ اگر ملک میں بحران پر قابو نہیں پایا گیا تو اس کے انتہائی خطرناک نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھاکہ ’مصر دوراہے پر کھڑا ہے۔‘

تحریر سکوائر پر جمع مظاہرین نے انتخابات کو ملتوی کرنے کا مطالبہ کیا تھا لیکن فوجی قیادت نے اس مطالبے کو مسترد کر دیا تھا۔ موجودہ انتخابی نظام الاوقات کے مطابق انتخابات کے پہلے مرحلے کا آغاز پیر سے ہوا ہے اور انتخابی عمل مارچ سنہ دو ہزار بارہ تک مکمل ہوگا۔

خیال رہے کہ مصر میں گزشتہ دس روز سے مظاہروں کا دوبارہ دور شروع ہوا تھا اور ہزاروں مظاہرین قاہرہ میں تحریر سکوائر پر جمع ہیں۔

اس دوران پولیس اور سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں اب تک اکتالیس مظاہرین ہلاک جبکہ دو ہزار سے زیادہ زخمی ہوچکے ہیں۔

اسی بارے میں