صومالیہ: امدادی اداروں کے دفاتر پر قبضہ

فائل فوٹو
Image caption الشباب ایک طویل عرصے سے صومالیہ میں اپنے زیرِ انتظام علاقوں میں بینالاقوامی امدادی اداروں کی مخالفت کر رہا ہے۔

صومالیہ میں عسکریت پسند گروہ الشباب نے اقوامِ متحدہ سمیت بیشتر بین الاقوامی امدادی تنظیموں کے دفاتر پر قبضہ کر کے انھیں بند کر دیا ہے۔

الشباب نے ان تنظیموں پر مسیحی مذہب کی تبلیغ کرنے کے الزام سمیت چودہ الزامات لگائے ہیں۔ ان تنظیموں میں اقوامِ متحدہ کی عالمی تنظیم یونیسیف اور عالمی ادارہ برائے صحت ڈبلیو ایچ او بھی شامل ہیں۔

واضح رہے کہ الشباب ایک طویل عرصے سے صومالیہ میں اپنے زیرِ انتظام علاقوں میں بین الاقوامی امدادی اداروں کی مخالفت کر رہا تھا لیکن آج بروز پیر عسکریت پسند گروہ نے ان امدادی تنظیموں پر باقائدہ طور پر پابندی عائد کر دی ہے۔

صومالیہ میں بیدوا کے قصبے کے ایک رہائشی عدلاحی عائدل نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’تین گاڑیوں میں سوار مسلحہ افراد نے اقوامِ متحدہ کے بچوں کے ادارے سمیت دیگر دفاتر کو گھیرے میں لے لیا۔‘

عدلاحی عائدل کا کہنا تھا ’یہ لوگ میرے سامنے دفاتر میں داخل ہوئے اور انھوں نے وہاں کام کرنے والوں کو باہر نکال کر دفاتر پر قبضہ کر لیا۔‘

دوسری جانب الشباب کے ایک سینیئر رکن نے بی بی سی کو بتایا کہ جن اداروں کے دفاتر کو بند کیا گیا ہے وہ ادارے متاثرہ افراد کے لیے کچھ خاص کام نہیں کر رہے تھے تاہم اس کارروائی سے عام صومالیوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔

گروہ کے رکن نے مزید بتایا کہ انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس، میڈیکل ایڈ چیریٹی اور اٹلی کی کوپی نامی ادارے پر کوئی پابندی نہیں عائد کی گئی اور یہ ادارے اپنا امدادی کام کرتے رہیں گے۔

یاد رہے کہ شمال مشرقی افریقہ میں جاری خشک سالی میں صومالیہ سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے جہاں بیس سال سے کوئی قومی حکومت نہیں ہے جس کے سبب حالات مزید خراب ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں