امریکہ: تحقیقاتی رپورٹ تین ہفتے میں طلب

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مہمند ایجنسی میں ہونے والے حملے میں چوبیس پاکستانی فوجی ہلاک ہوئے: پاکستانی فوج

امریکی فوج نے پاکستانی چوکیوں پر اتحادی فوج کے حملے اور اس میں چوبیس پاکستانی فوجیوں کی ہلاکت کے واقعہ کی تحقیقات کے لیے فضائیہ کے ایک اعلیٰ افسر کو نامزد کیا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکی سنٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل جیمز میٹِس نے ریاست فلوریڈا میں تعینات بریگیڈیئر جنرل سٹیفن کلارک کو نامزد کیا ہے جو اس تحقیقاتی ٹیم کا حصہ ہوں گے اور جس میں نیٹو کے اہلکار بھی شامل ہوں گے۔

خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ نے کہا ہے کہ سٹیفن کلارک اس معاملے کی تحقیقات کے سلسلے میں افغانستان میں تعینات نیٹو فورسز اور افغانستان اور پاکستان کے نمائندوں سے بھی معلومات جمع کرنے کے بعد رپورٹ تیار کریں گے۔

اے پی کا کہنا ہے کہ پینٹاگون سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ جنرل جیمز نے سٹیفن کلارک سے کہا ہے کہ وہ اپنی رپورٹ میں ایسی سفارشات بھی پیش کریں جن کے ذریعے سرحدی کارروائیوں کو بہتر بنایا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ حتمی رپورٹ تیئس دسمبر تک مکمل ہوجانی چاہیے۔

چار صفحات پر مشتمل بیان میں کہا گیا ہے کہ جنرل جیمز نے سٹیفن کلارک کو ہدایت دی ہے کہ وہ یہ معلوم کریں کہ کیا ہوا تھا، کون سے فوجی یونٹس اُس واقعہ میں شامل تھے، کس نے سرحد عبور کی یا نہیں کی، وہ آپریشن کس حد تک مربوط تھا اور ایسے کیا حالات تھے جو ہلاکتوں کا سبب بنے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی فوج کے جوائنٹ چیف آف سٹاف کے سربراہ جنرل مارٹن ڈیمپسے نے اپنے لندن کے دورے کے دوران کہا تھا کہ پاکستانی فوجیوں کی ہلاکت پر پاکستانی حکومت کا غم و غصہ اپنی جگہ جائز ہے تاہم انہوں نے اس واقعہ پر معذرت کرنے سے گریز کیا۔

انہوں نے کہا ’ان (پاکستان) کے پاس غصہ میں آنے کی وجوہات ہیں، ان کے چوبیس فوجی ہلاک ہوئے ہیں ۔۔۔ میں چاہوں گا کہ وہ صبر سے ہمیں یہ معلوم کرنے میں مدد کریں کہ آخر ہوا کیا تھا۔‘

اس سے پہلے وائٹ ہاؤس کے ترجمان جے کارنے نے کہا ہے کہ صدر براک اوباما سمجھتے ہیں کہ پاکستانی فوجیوں کی اموات ایک المیہ ہے اور امریکی انتظامیہ چاہتی ہیں کہ اس واقعہ کی تحقیقات ہوں۔

دوسری جانب پاکستانی وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے امریکی ٹی وی چینل سی این این کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ نیٹو کے پاکستانی فوج کی چیک پوسٹوں پر حملے کے واقعے کے بعد امریکہ اور پاکستان کے تعلقات پہلے جیسے نہیں رہیں گے۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات کا ازسر نو جائزہ لے رہا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستانی فوج کے مطابق قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں پاک افغان سرحد کے قریب سلالہ کے علاقے میں دو پاکستانی چوکیوں پر نیٹو کے ہیلی کاپٹروں نے بلااشتعال فائرنگ میں کم سے کم چوبیس سکیورٹی اہلکار ہلاک اور تیرہ زخمی ہوگئے تھے۔

اس واقعے پر پاکستان نے شدید احتجاج کیا تھا اور افغانستان میں نیٹو، ایساف کو رسد کی سپلائی روک دی تھی جب کہ بلوچستان میں شمسی ائر بیس پنردہ دن کے اندر اندر خالی کرنے کا کہنا تھا۔

اسی بارے میں