سیف الاسلام سے عطیہ لینے پر کڑی تنقید

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سیف الاسلام قذافی لندن سکول آف اکنامکس کے سابق طالب علم تھے۔

برطانیہ میں ایک اہم یونیورسٹی پر لیبیا کے سابق رہنما معمر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام قذافی کی جانب سے عطیہ قبول کرنے پر کڑی تنقید کی گئی ہے۔

معاملے کی چھان بین کرنے والے ایک اعلٰی سابق جج لارڈ ولف کا کہنا ہے کہ لندن سکول آف اکنامکس نے یہ غلطی کرکے کے اپنے ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔

سکول کے ڈائریکٹر سر ہارورڈ ڈیوس نے مارچ کے مہینے میں سیف الاسلام کے ایک ادارے کی جانب سے پندرہ لاکھ پاؤنڈ کا تحفہ لینے پر استعفٰی دے دیا تھا۔ سیف الاسلام اس سکول کے سابق طالب علم تھے۔

اس تعلیمی ادارے کی لیبیا کی حکومت کے ساتھ وابستگی لیبیا میں جاری بغاوت کے دوران برطانوی حکومت کے لیے شرمندگی کا باعث بنی تھی اور اس پر طلبا نے احتجاج بھی کیا تھا۔

سیف الاسلام قذافی کے ادارے سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کرنے کے چند ہفتوں بعد لندن سکول آف اکنامکس کو تین لاکھ پاؤنڈ کا عطیہ دیا گیا۔

دوسری جانب لندن سکول آف اکنامکس نے سیف الاسلام قذافی کو ڈاکٹریٹ کی ڈگری فروخت کیے جانے کے الزام کو مسترد کر دیا ہے۔

ادارے کی عبوری ڈائریکٹر جوڈیتھ ریس نے الزامات سے متعلق تحقیقات کے نتائج کے اعلان پر اپنے ردِ عمل میں کہا کہ دو ہزار آٹھ میں دی گئی اس ڈگری کو بیچے جانے سے متعلق کوئی شواہد سامنے نہیں آئے ہیں۔

اسی بارے میں