’زیادتی کا شکار افغان خاتون کی معافی غیر مشروط‘

فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ AFP Getty Images
Image caption انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ افغانستان میں اب بھی خواتین کو حقوق حاصل نہیں۔

افغانستان میں جنسی زیادتی کا شکار ایک خاتون کو جسے ’زنا‘ کے الزام کے تحت قید کی سزا سنائی گئی تھی آزاد ہونے کی صورت میں اپنے حملہ آور سے شادی نہیں کرنا پڑے گی۔

گلناز نامی خاتون کو اس کے ایک رشتہ دار نے زیادتی کا نشانہ بنایا لیکن اُلٹا اُسی کو بدکاری کے الزام میں بارہ برس قید کی سزا سنا دی گئی تھی۔

گلناز کی وکیل نے بی بی سی کو بتایا کہ صدر حامد کرزئی کے دفتر نے ذاتی طور پر یہ بات واضح کی ہے کہ اس خاتون کی معافی غیر مشروط ہے۔

اس سے پہلے ملنے والی اطلاعات کے مطابق گلناز کی جانب سے اُس کے ساتھ زیادتی کرنے والے شخص کے ساتھ شادی کی حامی بھرنے پر صدر حامد کرزئی نے اُس کی سزا معاف کی تھی۔

گلناز دو برس قید کاٹ چکی ہے اور اس نے جیل ہی میں ایک بچی کو جنم دیا جو اس کے ساتھ رہتی ہے۔

گلناز کی وکیل نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں اُمید ہے کہ حکومت گلناز کو اس بات اجازت دے دے گی کہ وہ جس سے چاہے شادی کر سکے۔

ان کا کہنا تھا ’گلناز نے مجھ سے بات چیت میں بتایا کہ اگر اُسے اختیار دیا جائے تو وہ اپنے ساتھ جنسی زیادتی کرنے والے شخص کے ساتھ کبھی شادی نہیں کرے گی۔‘

انسانی حقوق کے گروہوں کا کہنا ہے کہ افغانستان کی جیلوں میں سینکڑوں خواتین ایسی ہیں جو گھریلو تشدد اور جنسی زیادتی کا شکار ہوئیں۔

اس مقدمے نے طالبان کے جانے کے دس سال بعد بھی مصائب کا شکار افغان خواتین کی جانب بین القوامی توجہ مرکوز کروا دی ہے۔

اس ماہ کے اوائل میں گلناز نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ جنسی زیادتی کا شکار ہونے کے بعد اُلٹا اُسی پر ’زنا‘ کا مقدمہ دائر کر دیا گیا۔

اس نے بتایا ’شروع میں میری سزا دو سال تھی۔ جب میں نے اپیل کی تو اسے بارہ سال کر دیا گیا۔ میں نے کچھ نہیں کیا، پھر مجھے اتنی لمبی سزا کیوں دی گئی؟‘

گلناز کی جانب سے کی گئی ایک اور اپیل پر اس کی سزا تین برس کم کر دی گئی تھی۔

گلناز کی رہائی کے لیے پانچ ہزار کے قریب لوگوں نے پٹیشن سائن کی تھی جس کے بعد ایک صدارتی اعلان کے مطابق اس کی سزا معاف کر دی گئی۔

بیان کے مطابق جوڈیشری کمیٹی نے جنسی زیادتی اور قید کے معاملے پر بحث کی۔

گلناز کے ساتھ جنسی زیادتی کا معاملہ اس کے حاملہ ہو جانے کے باعث سامنے آیا۔ اس پر حملہ کرنے والا اس کی چچازاد بہن کا شوہر تھا ۔ اُسے اس جرم میں بارہ سال قید ہوئی جو اپیل کیے جانے پر سات سال کر دی گئی۔

افغانستان کی جیلوں میں قید خواتین کی نصف تعداد پر زنا اور اخلاقی جرائم کے الزامات ہیں۔

اسی بارے میں