ایرانی حکام، کمپنیوں پر پابندیوں پر اتفاق

Image caption یورپی یونین پہلے ہی سینکڑوں ایرانی کمپنیوں کے اثاثے منجمد کر چکی ہے

یورپی سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ یورپی یونین ایک سو اسّی ایرانی حکام اور کمپنیوں پر پابندیاں عائد کرنے پر متفق ہوگئی ہے۔

ان پابندیوں کا اعلان برسلز میں یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے بعد کیا گیا۔

یہ پابندیاں اقوامِ متحدہ کے جوہری نگرانی کے ادارے کی اس رپورٹ کے بعد لگائی گئی ہیں جس کے مطابق ایران نے ایسے تجربات کیے ہیں جن کا تعلق ’جوہری آلات کی تیاری‘ سے ہے۔

ایران نے ان اطلاعات کی تردید کی ہے اور اپنے دیرینہ موقف کو دہرایا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام صرف پرامن مقاصد کے لیے ہے۔

برطانیہ ایران میں اپنے سفارتخانے پر مظاہرین کے دھاوے کے بعد ایران پر نئی پابندیاں لگوانا چاہتا ہے۔ برطانیہ نے نہ صرف تہران سے اپنا سفارتی عملہ واپس بلا لیا ہے بلکہ ایران کو لندن میں سفارتخانہ بند کرنے اور ایرانی سفارتکاروں کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔

واضح رہے کہ منگل کو تہران میں ایک احتجاجی ریلی کے دوران مظاہرین نے برطانوی سفارتخانے میں داخل ہو کر توڑ پھوڑ کی تھی اور برطانوی جھنڈے کو آگ لگا کر سفارتخانے پر ایران کا جھنڈا لہرا دیا تھا۔

Image caption برطانیہ اقتصادی دباؤ میں اضافہ چاہتا ہے اور ایران کے مالیاتی شعبے کی تنہائی کا حامی ہے

یہ کارروائی ایران کے جوہری پروگرام پر مزید پابندیاں عائد کیے جانے کے فیصلے کے بعد ہوئی۔ یہ پابندیاں عائد کیے جانے کے بعد ایرانی پارلیمان نے برطانیہ کے ساتھ سفارتی تعلقات کو محدود کرنے کے فیصلے کو منظور کر لیا تھا۔

برسلز میں اجلاس سے قبل برطانوی وزیرِ خارجہ ولیم ہیگ نے کہا تھا کہ ’وہ ’اقتصادی دباؤ میں اضافہ‘ چاہتے ہیں اور خصوصاً ایران کے مالیاتی شعبے کی تنہائی کے حامی ہیں۔

یورپی یونین پہلے ہی سینکڑوں ایرانی کمپنیوں کے اثاثے منجمد کر چکی ہے اور اس نے ایران میں گیس اور تیل صاف کرنے کے منصوبوں میں نئی سرمایہ کاری روکنے کے لیے بھی اقدامات کیے ہیں۔

اسی بارے میں