مصر: انتخابات میں اسلامی جماعتوں کی برتری

فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ابتدائی نتائج کے مطابق اخوان المسلمون کو برتری حاصل ہے۔

مصر میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے نتائج کے مطابق اسلامی جماعتوں کو اکثریت حاصل ہو رہی ہے۔

اخوان المسلمون اور قدامت پسند جماعت سلفی اسلامی پارٹی کو برتری حاصل ہے جبکہ سیکولر لبرل جماعتوں کا نمبر ان کے بعد آتا ہے۔

تاہم اب بھی دو مزید انتخابی مراحل باقی ہیں جو اگلے ہفتے ہوں گے۔

اخوان المسلمون کا کہنا ہے کہ لوگوں کی مرضی کا احترام کیا جائے گا۔

قاہرہ میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ مصر کے کے پہلے آزادانہ اور منصافنہ انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی شرح باسٹھ فیصد رہی۔

نتایج کے مطابق اخوان المسلمون کی جماعت فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی یعنی ایف جے پی کو برتری حاصل ہے۔

اخوان المسلمون جس نے سابق صدر حسنی مبادرک کے تیس سالہ دورِ اقتدار میں ان کے خلاف بغاوت کی رہنمائی کی جس کے بعد اس پر سرکاری طور پر پابندی عائد کر دی گئی۔

مخالفین کا کہنا ہے کہ ایف جے پی ووٹوں کے بدلے لوگوں میں دوائیں اور خوراک تقسیم کر رہی ہے۔

اخوان المسلمون نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ہم نے ان تمام لوگوں سے کہا ہے جو خود کو جمہوریت سے وابستہ کرتے ہیں کہ لوگوں کی مرضی اور ان کے انتخاب کا احترام کریں۔ ‘

ابتدائی نتائج کے مطابق نسبتاً زیادہ قدامت پسند جمعت سلفی النور پارٹی کو دوسری پوزیشن حاصل ہے۔

سلفی جماعت کا منصور ہے کہ اسلامی نظام کو پیغمبرِ السلام کے دور کے مطابق نافذ کیا جائے۔

اٹھائیس اور انتیس نومبر کو ستائیس میں سے نو صوبوں ووٹنگ کی جائے گی۔ یہاں سے چار سو اٹھانوے مجموعی نشستوں میں سے تیس فیصد پر انتخاب ہوگا۔

ایوانِ زیریں کے لیے ہونے والے ان انتخابات کے اگلے مراحل چھ ہفتوں پر مشتمل ہیں۔

اسی بارے میں