’یورپی زون آغاز ہی سے خامیوں کا شکار‘

فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ژیک ڈیلو کے تاثرات ایسے وقت آئے ہیں جبکہ یورو زون کی پائیداری کے بارے میں شکوک و شبہات بڑھ رہے ہیں

یورو کرنسی کے خالقوں میں سے ایک ژیک ڈیلو نے کہا ہے کہ یورپی زون آغاز سے ہی خامیوں کا شکار تھا۔

ژیک ڈیلو کے مطابق یورو زون کے ملکوں کے درمیان اقتصادی تعاون کا جو تصور پیش کیا تھا اس پر عمل نہیں ہوا۔

ژیک ڈیلو نے برطانوی اخبار ٹیلی گراف کو بتایا کہ یورو زون کے ملکوں کی اقتصادی پالیسیوں کو مربوط بنانے کے لیے ایک بااختیار مرکزی نظام نہ ہونے کی وجہ سے بعض رکن ملک غیر پائیدار قرضوں کے بوجھ تلے دب گئے ہیں۔

ڈیلو 1985 سے 1995 تک یورپی کمیشن کے سربراہ رہے ہیں اور انہوں نے یورپی ملکوں میں واحد کرنسی یعنی یورو متعارف کرانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

ان کے تاثرات ایسے وقت آئے ہیں جبکہ یورو زون کی پائیداری کے بارے میں شکوک و شبہات بڑھ رہے ہیں اور جرمنی کی چانسلر نے گزشتہ روز جمعہ کو ہی کہا ہے کہ قرضوں کے بحران کو حل کرنے میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔

جرمن چانسلر اور فرانسیسی صدر یورپی اتحاد کے معاہدے میں تبدیلی کرنے کا کہا ہے۔

ڈیلو نے کہا کہ قرضوں کا بحران یورو زون کی واحد کرنسی کی وجہ سے پیدا نہیں ہوا بلکہ اس کی وجہ یورو کو چلانے کے نظام میں خرابیاں ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ PA

انہوں نے کہا کہ یورو کی کرنسی متعارف کرانے والے یورپ کےسیاسی رہنماؤں نے اس وقت بھی رکن ملکوں کی معیشتوں میں جو بنیادی کمزوریاں اور عدم توازن پایا جاتا تھا اسے نظر انداز کر دیا۔

ان کے بقول قرضوں کے حالیہ بحران کی ذمہ داری تمام یورپی ملکوں کو قبول کرنی چاہیے۔

برطانیہ سمیت یورو کی رکنیت کی مخالفت کرنے والے ممالک نے کہا تھا کہ ریاست کے بغیر کرنسی کام نہیں کرتی ہے۔

اس پر ڈیلو نے کہا کہ ان ممالک کا’ایک نقطہ تھا‘۔

انھوں نے کہا کہ یورپی اتحاد کے موجودہ رہنماؤں کی جانب سے ردعمل ’بہت کم‘ اور ’بہت تاخیر‘ سے ہے۔

اسی بارے میں