شام کے خلاف قرارداد، چین اور روس کی مخالفت

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption چین اور روس نے قرار داد کی مخالفت میں ووٹ دیا

اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے انسانی حقوق نے شام کے خلاف مذمتی قرار منظور کی ہے جسے سفارتکاروں نے اب تک کی سخت ترین قراردار قرار دیا ہے۔

یہ قرار داد اقوامِ متحدہ میں انسانی حقوق کے ہنگامی اجلاس میں منظور کی گئی۔اس قرار داد کے حق میں سینتیس اور مخالفت میں چار ووٹ ڈالے گئے جبکہ چھ ارکان نے ووٹ کاسٹ نہیں کیا۔

چین اور روس نے قرار داد کی مخالفت میں ووٹ دیا۔

اقوامِ متحدہ میں انسانی حقوق کے ادارے نے الزام عائد کیا ہے کہ شام کی سکیورٹی فورسز کی جانب سے حکومت مخالف مظاہرین پر تشدد کیا جا رہا ہے۔

ادارے نے شام پر تنقید کرتے ہوئے ایک خصوصی تحقیق کار کو تعینات کیا ہے جو شام میں انسانی حقوق کی پامالی کے ثبوت اکٹھے کرے گا۔

قرار دار میں مطالبہ کیا گیا کہ تشدد کو فوری طور پر ختم کیا جائے، قیدیوں کو رہا کیا جائے اور شامی فوج کے اُن تمام اہلکاروں کو معطل کیا جائے جن کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے مرتکب ہوئے ہیں۔

اس سے پہلے اقوامِ متحدہ میں انسانی حقوق کی سربراہ نوی پلے نے کہا کہ شام میں شہریوں کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔

نوی پلے نے کہا کہ ہم اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل سمیت تمام ممالک سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ متحد ہو کر شام کے شہریوں کے تحفظ اور بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے اقدامات کریں۔

بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ بیشتر سفیر سمجھتے ہیں کہ اب بہت کم وقت رہ گیا ہے اور اب یہ چاہیے کہ شام کے خلاف جرائم کی بین الاقوامی عدالت سے رابطہ کر لیا جائے گا۔

دوسری جانب جنیوا میں شام کے سفیر نے کونسل سے کہا کہ ان کے ملک میں جاری مسئلے کے حل بین الاقوامی برادری کے پاس نہیں ہے۔

اقوامِ متحدہ کے اندازے کے مطابق شام میں حکومت کے خلاف مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن میں چار ہزار افراد مارے جا چکے ہیں۔

اسی بارے میں