شام: باغیوں اور فوج میں جھڑپ، تیئس ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

شام کی فوج سے منحرف ہونے والے اہلکاروں اور صدر بشاراالاسد کے وفادار فوجوں میں لڑائی کے دوران کم سے کم تیئس افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ زیادہ ہلاکتیں شمال مغربی شہر ادلِب میں ہوئی ہیں۔

شام میں انسانی حقوق کے نگراں ادارے کاکہنا ہے کہ ادلب میں رات کے وقت ہونے والی لڑائی میں سکیورٹی فوسرز کے سات اہلکار، فوج کے پانچ باغی، اور تین عام شہری ہلاک ہوئے۔

جبکہ مارت نعمان نامی صوبے میں ایک چھبیس سالہ شخص کے جنازے کا جلوس بعد میں حکومت مخالف ایک بڑے مظاہرے میں تبدیل ہو گیا۔

اقوامِ متحدہ کے اندازے کے مطابق شام میں حکومت مخالف مظاہروں پر کریک ڈاؤن کے دوران چار ہزار افراد مارے جا چکے ہیں۔

عرب لیگ نے شام سے کہا ہے کہ وہ تشدد کے خاتمہ کے معاہدے کی دستاویز پر اتوار تک دستخط کردے۔ عرب لیگ نے اپنے اجلاس میں شام پر کئی معاشی پابندیاں عائد کیں ہیں جبکہ بشارالاسد کی انتظامیہ کے انیس عہدیداروں کے اثاثے منجمد کرنے اور ان پر عرب ممالک میں سفر کرنے پر بھی پابندیاں عائد کردی گئی ہیں۔

امریکی نائب صدر جوبائڈن کے اس بیان کے بعد سے شام میں مسلسل بدامنی جاری ہے جس میں انہوں نے خبردار کیا تھا کہ شام میں ہونے والے واقعات فرقہ وارانہ فسادات کے خطرے کو ہوا دے رہے ہیں۔

استنبول میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے شام کی صورتحال کے بارے میں کہا تھا کہ وہاں’ ظلم کے ذریعے مخالفت کو دبایا جا رہا ہے۔ ‘

انہوں نے اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے انسانی حقوق کے جانب سے شام میں جاری تشدد کے بارے میں مذمتی قرارداد کا خیرمقدم کیا۔

اس قرارداد کو سفارتکاروں نے اب تک کی سخت ترین قرارداد قرار دیا جس میں مطالبہ کیا گیا کہ تشدد کو فوری طور پر ختم کیا جائے، قیدیوں کو رہا کیا جائے اور شامی فوج کے اُن تمام اہلکاروں کو معطل کیا جائے جن کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے مرتکب ہوئے ہیں۔

کونسل نے ایک خصوصی تحقیق کار کو تعینات کیا ہے جو شام میں انسانی حقوق کی پامالی کے ثبوت اکٹھے کرے گا۔

اسی بارے میں