یمن میں مزید جھڑپیں، سات افراد ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption یمن کے صدر کے خلاف احتجاج میں تعز مظاہروں کا گڑھ بنا ہوا ہے

یمن میں فوج اور حکومت کے مخالفین کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں جن میں مزید سات افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ تازہ جھڑپوں سے اقتدار کی منتقلی کے معاہدے کو خطرہ ہوگیا ہے جس پر صدر عبداللہ صالح نے دستخط کیے ہیں۔

گزشتہ ماہ ہونے والے اس معاہدے کے تحت صدر صالح نے اپنے لیے استثنٰی کے بدلے اقتدار نائب صدر عبدالرب منصور ہادی کے حوالے کردیا تھا۔

تاہم بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کے بعد بھی تعز میں کشیدگی کم ہوتی نظر نہیں آتی۔

تعز میں ڈاکٹروں نے بی بی سی کو بتایا کہ تازہ جھڑپوں میں ہلاک ہونے والی تین عام شہری اور دیگر فوجی اہلکار یا باغی ہیں۔

اطلاعات ہیں کہ تعز میں جھڑپوں کے بعد حالات کو قابو میں لانے کے لیے بڑے پیمانے پر فوجی کمک روانہ کردی گئی ہے۔

عبداللہ صالح اب باضابطہ صدر کے عہدے پر فائز نہیں ہیں تاہم انہوں نے اقتدار چھوڑنے کے اعلان کے بعد بھی کئی اعلانات کیے ہیں اور کئی حلقوں کو اس بات پر حیرت ہے کہ آیا عبداللہ صالح اب بھی اقتدار میں ہیں۔

یمن میں عبداللہ صالح سنہ انیس سو اٹھہتر میں اقتدار میں آئے تھے اور رواں برس جنوری سے شروع ہونے والے احتجاج کو انہوں نے سکیورٹی فوسز کے ذریعے کچلنے کی بھرپور کوشش کی تھی۔

اسی بارے میں