پاکستان حملے کے باوجود مدد کرے: نیٹو

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

نیٹو کے سیکریٹری جنرل آندرے راسموسن نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ نیٹو کے حملے کے باوجود افغانستان کے فوجی آپریشنز میں تعاون کرے۔

پاکستان کے قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں پاکستانی فوجیوں کی چوکیوں پر نیٹو کے حملے میں چوبیس پاکستانی فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔

پاکستان نے اس حملے پر شدید احتجاج کیا تھا اور اپنی سرزمین سے افغانستان میں تعینات نیٹو، ایساف افواج کو سامانِ رسد کی فراہمی روک دی تھی۔ پاکستان نے افغانستان کے مستقبل کے حوالے سے جرمنی کے شہر بون میں منعقدہ ایک روزہ عالمی کانفرس کا بائیکاٹ کیا تھا اور امریکہ کو بلوچستان میں واقع شمسی ہوائی اڈہ خالی کرنے کا کہا تھا۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق نیٹو کے سیکریٹری جنرل آندرے راسموسن نے نیٹو کے حملے پر دوبارہ افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’آگے بڑھنے کا واحد راستہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان مثبت بات چت ہے، اس کے علاوہ امریکہ اور پاکستان کے مابین، نیٹو اور پاکستان کے مابین مثبت بات چیت ہے۔‘

’میں اس بات پر مکمل طور پر متفق ہوں کہ افغانستان میں دیر پا استحکام اور امن کے لیے آخر کار ہمیں پاکستان کے مثبت تعاون کی ضرورت ہے۔‘

برسلز میں نیٹو تنظیم میں شامل ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شرکت کے لیے آمد پر نیٹو کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ’ مجھے امید ہے کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات میں بہتری ہوگی۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ہم نے نیٹو اور پاکستان کے درمیان تعاون کے لیے سیاسی فریم ورک کی پیشکش کی ہے۔

خیال رہے کہ اس سے پہلے نیٹو کے سیکریٹری جنرل پاکستانی چوکیوں پر نیٹو کے حملے کو ’غیر ارادی ‘ قرار دے چکے ہیں۔

پاکستانی فوج کا کہنا تھا کہ نیٹو کے حالیہ حملے کے سنگین نتائج نکل سکتے ہیں جب کہ امریکہ نے واقعے کی تحقیقات شروع کر رکھی ہیں۔

اسی بارے میں