پاکستان سے تعلقات، ازسرنو جائزے کا مطالبہ نظرانداز

Image caption چھبیس نومبر کا واقعہ امریکہ اور پاکستان کے درمیان تعلقات میں خلل کا سبب بنا: امریکی ترجمان

امریکہ نے پاکستان کے ساتھ تعلقات کا ازسرِ نو جائزہ لینے کے مطالبے کو نظرانداز کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو امریکی امداد جاری رہے گی۔

یہ بات امریکی وزارتِ خارجہ کے ترجمان مارک ٹونر نے ری پبلکن سینیٹروں کی جانب سے پاکستان کےساتھ تعلقات کے از سر نو جائزے کے مطالبے کے جواب میں کہی۔

اس سے قبل ریپبلکن جماعت سے تعلق رکھنے والے امریکی سینیٹرز نے حکومت سے کہا تھا کہ اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات اور اسے دی جانے والی امداد کا ازسرِ نو جائزہ لیا جائے۔

برطانوی اخبار دی ٹیلیگراف میں شائع ہونے والے اپنے مشترکہ بیان میں سینیٹر مِک کین اور سینیٹر لینڈسے گراہم نے کہا تھا کہ واشنگٹن میں کئی سینیٹرز یہ محسوس کرتے ہیں کہ پاکستان کے ساتھ دس سالہ سٹریٹجک تعلقات کا اب دوبارہ جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا ’چند نہ جھٹلائے جانے والے اور مضطرب کرنے والے حقائق سامنے آنے کے باوجود امریکہ پاکستان کے ساتھ انتہائی صبر کا مظاہرہ کررہا ہے اور ہم بھی ایسا ہی کررہے ہیں۔‘

تاہم میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے وزارتِ خارجہ کے ترجمان مارک ٹونر نے کہا کہ چھبیس نومبر کو ایک واقعہ ہوا تھا اور یہ پاکستان اور پاکستانیوں کے لیے ایک مشکل گھڑی ہے۔

ان کے بقول پاکستانیوں نے جس انداز سے اس واقعہ پر ردعمل کا اظہار کیا اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ سانحہ ان کے لیے کس قدر اہمیت رکھتا ہے۔

’میرا نہیں خیال کہ یہ اس بات کا عکاس ہے کہ ہمارے درمیان پہلے کیا تعلقات تھے اور اب ہم کس سمت جارہے ہیں۔ لہذٰا ہم سمجھتے ہیں کہ ہماری امداد پاکستان کے جمہوری اداروں اور معیشت کے استحکام اور ترقی کے لیے اب بھی جاری ہے۔ یہ ایسے معاملات ہیں جن کے حصول کے ہم خواہاں ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں کہ کیا چھبیس نومبر کے واقعہ کے بعد امریکہ پاکستان سے جس قسم کے روابط اور تعاون چاہتا ہے اسے یقین ہے کہ حاصل ہوگا، مارک ٹونر نے جواب دیتے ہوئے کہا ’ہم چھبیس نومبر کے سانحہ کے بعد سے اس مسئلہ کو سلجھانے کی کوشش کررہے ہیں جو ہمارے (امریکہ اور پاکستان کے) تعلقات میں خلل کا سبب بنا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ امریکی قیادت نے پاکستان سے تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا ہے اور مکمل تحقیقات کرانے کا وعدہ بھی کیا ہے اور اس سلسلے میں امریکی قیادت پاکستان کی تشویش کو دور کرنا چاہتی ہے۔

’میرا خیال ہے کہ ہمیں یہ سب کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم یہ بھی کہنا چاہتے ہیں کہ سکیورٹی چیلنجوں اور خطرات کا سامنا ہے اور یہ اشد ضروری ہے کہ پاکستان، افغانستان، امریکہ اور دیگر عالمی پارٹنرز مل کر ان پر قابو پا سکتے ہیں اور یہ ہم سب کے مفاد میں ہے۔‘

امریکی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ یہ انتہائی اہم ہے کہ پاکستان، افغانستان اور اتحادی افواج ایساف سرحدوں پر اپنی کارروائیاں مربوط انداز میں کریں تاکہ چھبیس نومبر جیسا واقعہ مستقبل میں رونماء نہ ہو۔

اسی بارے میں