روس، مظاہروں میں امریکہ کا ہاتھ ہے: پوتن

تصویر کے کاپی رائٹ AP

روس کے وزیرِاعظم ولادیمیر پوتن نے امریکہ پر الزام عائد کیا ہے کہ روس میں پارلیمانی انتخابات کے نتیجے میں ہونے والے مظاہروں کے پیچھے اس کا ہاتھ ہے۔

روسی وزیرِ اعظم کا کہنا ہے کہ امریکہ کی وزیرِ خارجہ ہلری کلنٹن نے حزبِ اختلاف کے بعض کارکنوں کو ان مظاہروں پر اکسایا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہلری کلنٹن نے انہیں اشارہ دیا انہوں نے اس اشارے کو سمجھا اور اس پر عمل درآمد شروع کر دیا۔

انھوں نے مزید کہا کہ جو لوگ بیرونی حکومتوں کے لیے کام کرتے ہوئے روسی سیاست پر اثرانداز ہونے کی کوشش کر رہے ہیں اُنہیں کیفرِکردار تک پہنچایا جائے گا۔

اُنھوں نے یہ بھی کہا کہ زیادہ تر روسی شہری حال ہی میں یوکرائن اور کرغستان میں رونما ہونے والے سیاسی بحران اپنے ملک میں نہیں دیکھنا چاہتے۔

اتوار کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے بعد انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف مظاہرے شروع ہو گئے تھے۔

روسی الیکشن کمیشن کے شائع کردہ نتائج کے مطابق وزیرِاعظم پوتن کی پارٹی یونائیٹڈ رشیا کی ایوان میں برتری کم ہوگئی ہے لیکن معمولی اکثریت کے ساتھ ابھی تک برقرار ہے۔

روسی حکام نے ان حالات کے پیشِ نظر سینکڑوں مظاہرین کو حراست میں لے لیا ہے تاہم مزید مظاہروں کی تیاریاں جاری ہیں۔

روس کے پارلیمانی انتخابات پر بین الاقوامی مصبرین نے بھی خدشات کا اظہار کیا تھا۔ وائٹ ہاؤس نے بھی انتخابات کے شفاف ہونے پر تحفظات ظاہر کیے تھے۔

دوسری جانب روسی صدر دمتری میدوی ایدف نے انتخابات کے آزادانہ اور شفاف ہونے پر اصرار کیا ہے۔

اسی بارے میں