یورپی یونین: معاہدے میں تبدیلیاں مسترد

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption یورپ میں قرضوں کا بحران شروع ہونے کے بعد جرمنی کی اہمیت بڑھ کئی ہے

یورپی یونین کے ستائیں ممالک کے درمیان برسلز میں ہونے والے اجلاس کے دوران نئے یورپین معاہدے پر اتفاق نہیں ہوسکا۔

فرانس کے صدر نکولس سرکوزی کا اصرار ہے کہ یورو کو بچانے کے لیے کی جانے والی کوششوں میں ایک ہی کرنسی استعمال کرنے والے سترہ ممالک کے درمیان کسی معاہدے پر توجہ دی جانی چاہئے۔

برسلز میں تمام رات جاری رہنے والی یورپی یونین کی بات چیت کے بعد ان کا کہنا تھا کہ یورو بلاک نے بین الحکومتی معاہدے کے لیے مارچ تک کی ڈیڈ لائن مقرر کی ہے۔

فرانس اور جرمنی چاہتے ہیں کہ تمام رکن ممالک ایسے معاہدے کی حمایت کریں جس کے مطابق زیادہ سخت بجٹ اصول عائد کیے جائیں گے تاکہ قرضوں کے بحران کو حل کیا جا سکے۔

برطانیہ اس معاملے میں رعایت چاہتا ہے جسے جرمنی اور فرانس سے ماننے سے انکار کر دیا ہے۔

یوریی یونین کے ستائیس ممبر ممالک کی سربراہ کانفرنس برسلز میں ہوئی جس میں یورپ میں قرضوں کا بحران اور یورو کرنسی کو بچانے سے متعلق اقدامات کا جائمہ لیا گیا۔

جرمنی اور فرانس نے قرضوں کے بحران سے نکلنے کے لیے مشترکہ تجاویز یورپی یونین کے ممالک کے سامنے رکھی ہیں جس کے تحت تمام ممبر ممالک کو مالیاتی ڈسپلن کا پابند کیا جائے گا اور خلاف ورزی کرنے والے ملک کے خلاف پابندیاں عائد ہو سکیں گی۔

کانفرنس سے پہلے فرانس، جرمنی اور برطانیہ کے سربراہاں کے مابین ہونے والی بات چیت میں کچھ طے نہیں پا سکا اور تمام فریق اپنے موقف پر قائم رہے۔

جرمنی کی چانسلر اینگلا مرکل نے کہا ہے کہ یورو کرنسی اپنا اعتبار کھو چکی ہے اور اسے بحال کرنے کے لیے اہم اقدامات کرنے ہوں گے۔

برطانیہ کے وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے کانفرنس کے شروع ہونے سے پہلے ہی یہ واضح کر دیا ہے کہ برطانیہ کسی بھی ایسی تجویز کو ویٹو کر دے گا جس سے برطانیہ کے مفادات پر زد پڑتی ہو۔ برطانیہ یورپی یونین کا ممبر ہے لیکن وہ ان سترہ ممالک میں شامل نہیں ہے جن کی کرنسی یورو ہے۔

فرانس کے صدر نکولس سرکوزی نے برسلز میں کانفرنس میں شریک ہونے سے چند گھنٹے پہلے اپنے ایک خطاب میں کہا کہ یورپی یونین کے بکھرنے کا خطرہ کبھی اتنا شدید نہ تھا جتنا اب ہے۔

یورپی یونین کے بحران میں جرمنی سب سے مضبوط ہو کر ابھرا ہے اور مطالبہ کر رہا ہے کہ یورو کرنسی کو بچانے کے لیے یورو مالیاتی یونین کی تشکیل ضروری ہے جس کے تحت یورو کرنسی رکھنے والے ملکوں پر قرضے حاصل کرنے اور ٹیکسوں کا یکساں نظام نافذ ہو گا اور خلاف ورزی کرنے والوں کو پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

جرمنی کا موقف ہے کہ کچھ ممالک جب اپنے غلط معاشی پالیسیوں کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہوتے ہیں تو پھر یورو زون کے تمام ممالک متاثر ہوتے ہیں اور انہیں ان غیر ذمہ دار ملکوں کو بحران سے نکالنے کے لیے مالی مدد فراہم کرنی پڑتی ہے۔

جرمنی کی تجویز ہے کہ اس مالیاتی یونین کے رکن ممالک کے لیے لازم ہونا چاہیے کہ وہ اپنی آمدن اور خرچ کا تناسب کو برقرار رکھیں اور خلاف ورزی کرنے والوں پر پابندیاں عائد ہونی چاہیے۔ جرمنی کی یہ بھی تجویز ہے کہ یورپی عدالت کو اختیار ہونا چاہیے کہ وہ کسی بھی ملک کے بجٹ کو دیکھ سکے۔

بعض ممالک کو خدشہ ہے کہ جرمنی اپنی دولت کے بل بوتے پر دوسرے ممالک کی خود مختاری پر کنٹرول حاصل کر لے گا اور پھر وہ آزادنہ طور پر اپنی معاشی پالیسیاں تشکیل نہیں دے سکیں گے بلکہ انہیں دوسرے ممالک کی طرف سے بتائے اصولوں پر اپنی معیشت کو تشکیل دینا پڑے گا۔

اسی بارے میں