فرانس: جسم فروشی پر پابندی کی تجویز منظور

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

فرانس کی پارلیمنٹ نے ایک ایسی تجویز کی حمایت کی ہے جس کے تحت جسم فروشی کو ایک جرم قرار دیا جائے۔

تجویز کے مطابق جنسی تعلق کے لیے قمیت ادا کرنے والے شخص کو تین ہزار یورو تک جرمانے اور چھ ماہ کی قید کی سزا دی جائے۔

فرانس کی قومی اسمبلی نے اس تجویز کومنظور کرلیا ہے اور اس کی روشنی میں ایک بل تیار کیا جائے گا۔

طوائفوں کےحقوق کے لیے کام کرنی والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اس تجویز کو اگر قانون میں تبدیل کر دیا گیا تو ہزاروں لوگوں کو ان کے ذریعہ معاش سے محروم کر دیا جائے گا۔

خیال کیا جاتا ہے کہ فرانس میں بیس ہزار افراد طوائف کے طور پر کام کر رہے ہیں۔

اس تجویز میں کہا ہے کہ فرانس کو ایسا معاشرہ تشکیل دینے پر توجہ دینی چاہیے جس کے تحت رقم کے عوض جسم کو نہ بیچا جا سکے اور ’سیکس ورک‘ کو کام نہ تصور کیا جائے۔

ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ جسم فروشی کو غیر قانونی قرار دینے کی تجویز قانون بن سکے یا نہیں۔

فرانس کی طوائفوں کی یونین نے اس تجویز کے خلاف پارلیمنٹ کے باہر مظاہرہ کیا ہے۔

کئی درجن طوائفیں اور ان کے حمایتی پارلیمنٹ کے باہر پلے کارڈ لیے کھڑے تھے جن پر درج تھا ’سکیس ورک‘ بھی ایک پیشہ ہے۔

طوائفوں کا کہنا ہے کہ ان کے گاہکوں کو سزا دینے کے قانون سے ان کا پیشہ متاثر ہو گا اور پھر وہ گاہک حاصل کرنے کے لیے دلالوں کی محتاج ہوں گی۔

اسی بارے میں