’بےروزگاری تیزی سے ابھرتا عالمی مسئلہ‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption اٹھارہ فیصد لوگوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے دوستوں اور رشتہ داروں سے بےروزگار ہونے کے معاملے پر بات کی

یورو زون کے مالیاتی مسائل ہوں یا امن و امان کی صورتحال یا پھر ماحولیاتی تبدیلیاں، عالمی خبروں کے ایجنڈے پر مختلف موضوعات ہمیشہ زیرِ بحث رہتے ہیں۔

لیکن وہ کون سے موضوعات ہیں جو دنیا میں عام لوگوں کی گفتگو کا محور ہیں اور کیا گزشتہ چند برس کے دوران ان موضوعات میں کوئی تبدیلی بھی آئی ہے؟

یہ وہ سوال ہے جس کا کوئی حتمی جواب نہیں لیکن بی بی سی کے تازہ سالانہ سروے کے نتائج اس معاملے پر کچھ روشنی ڈال سکتے ہیں۔

بی بی سی کے لیے گلوب سکین کی جانب سے کروائے گئے سالانہ سروے کے نتائج کے مطابق دنیا بھر میں سب سے زیادہ زیرِ بحث آنے والے موضوعات میں بدعنوانی اور غربت کے ساتھ ساتھ بےروزگاری بھی شامل ہوگئی ہے۔ اس فہرست میں بےروزگاری کی شمولیت کی وجہ خراب عالمی اقتصادی حالات کو قرار دیا جا رہا ہے۔

اس سروے میں حصہ لینے والے گیارہ ہزار افراد کو عالمی مسائل کی فہرست فراہم کر کے پوچھا گیا کہ انہوں نے حال ہی میں اپنے دوستوں اور اہلِ خانہ سے ان میں سے کن مسائل پر بات کی ہے۔

نتائج کے مطابق اٹھارہ فیصد لوگوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے دوستوں اور رشتہ داروں سے بےروزگار ہونے کے معاملے پر بات کی۔ یہ شرح سنہ دو ہزار نو میں کیے گئے سروے کے نتائج سے چھ گنا زیادہ ہے۔

رواں برس جولائی سے ستمبر کے دوران کیے گئے اس سروے کے دوران دنیا کے تیئیس ممالک کے عوام سے سوالات کیے گئے اور جہاں امریکہ، فرانس اور جاپان میں معیشت سب سے زیادہ زیرِ بحث موضوع رہا وہیں نائجیریا، مصر اور بھارت میں بدعنوانی اور روس اور چین میں خوراک کی بڑھتی قیمتوں پر سب سے زیادہ بات ہوئی۔

سروے کے مطابق آج بھی دنیا کا سب سے زیادہ زیرِ بحث موضوع یا مسئلہ بدعنوانی اور لالچ ہے اور سروے میں شامل افراد میں سے تقریباً ایک چوتھائی یعنی چوبیس فیصد کے خیال میں دنیا میں سب سے زیادہ بات اس پر ہوتی ہے۔ اس شرح میں گزشتہ برس کی نسبت تین فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔

مسائل کی فہرست میں دوسرا درجہ انتہائی غربت کا ہے اور بیس فیصد لوگوں نے اس موضوع پر بات کی۔ گزشتہ برس یہ شرح انیس فیصد تھی۔

بےروزگاری اس سروے میں تیزی سے ابھرنے والا مسئلہ ثابت ہوا تاہم اس کے بارے میں خدشات میں مختلف ممالک میں الگ الگ آراء سامنے آئیں۔ آج کل یورپ میں قرضوں کے بحران سے متاثرہ ممالک میں سے ایک سپین میں چوّن فیصد عوام کے ذہنوں پر بےروزگاری کا مسئلہ سوار تھا اور یہ شرح گزشتہ برس کے مقابلے میں تینتیس فیصد زیادہ ہے۔

اس کے علاوہ گھانا، میکسیکو، نائجیریا اور ترکی وہ ممالکہیں جہاں بےروزگاری کو اہم زیرِ بحث مسئلہ قرار دیا گیا اور ان ممالک میں ایک تہائی افراد نے اس پر بات کی۔

علاقائی تنوع

سروے سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ مختلف ممالک کے عوام میں اہمیت کے لحاظ سے مسائل کی درجہ بندی مختلف تھی۔

امریکہ، فرانس اور جاپان جیسے دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں جہاں عالمی اقتصادی حالات عوام کی فکر کا باعث تھے تو وہیں بھارت، نائجیریا، ترکی، انڈونیشیا اور پیرو میں بدعنوانی پر سب سے زیادہ بات ہوئی۔

یہ وہ ممالک ہیں جو یا تو ترقی پذیر ہیں یا وہاں حکومت اور کاروباری حالات میں شفافیت کا عنصر زیادہ نہیں۔

چین، روس، کینیا اور فلپائن جیسے ممالک میں خوراک اور ایندھن کی بڑھتی قیمتیں سب سے اہم زیرِ بحث موضوع ثابت ہوا۔ اسی طرح لاطینی امریکہ کے ممالک میں عوام نے جرائم اور تشدد پر سب سے زیادہ بات کی۔

سروے سے یہ بھی پتہ چلا کہ ترقی یافتہ ممالک کے عوام ماحولیاتی تبدیلیوں کے دور رس نتائج کے بارے میں غریب ممالک کے عوام سے زیادہ فکرمند ہیں۔ تاہم دنیا میں ہر جگہ گلوبل وارمنگ کا مسئلہ حال ہی میں زیرِ بحث آنے والے موضوعات کی فہرست میں زیادہ اہم نہیں دکھائی دیا۔

گزشتہ برس دس ممالک میں یہ سب سے اہم زیرِ بحث مسئلہ تھا لیکن اس سال صرف برطانیہ اور جرمنی میں یہ سرفہرست رہا۔

اسی بارے میں