حلف برداری کی تقریب میں نقاب پر پابندی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption اسلام کینیڈا میں سب سے تیزی سے پھیلنے والے مذاہب میں سے ایک ہے

کینیڈا کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ شہریت اختیار کرنے والے افراد کو تقریبِ حلف برداری کے دوران نقاب کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

مانٹریال میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کینیڈا کے وزیر برائے شہریت اور امیگریشن جیسن كیني نے کہا ہے کہ یہ پابندی فوری طور پر نافذالعمل ہوگی۔

کینیڈین صوبے کیوبک میں کچھ حکومتی سروسز میں نقاب کرنے یا چہرہ ڈھانپنے پر پہلے ہی پابندی ہے اور اس فیصلے کے بعد کینیڈا کی شہریت کا حلف لینے والے تمام لوگوں کو حلف برداری کی تقریب کے دوران چہرہ ڈھانپنے والے کسی بھر کپڑے یا دیگر اشیاء کو اتارنا ہوگا۔

کینیڈین وزیر کا کہنا تھا کہ حلف لینے والے ججوں اور کئی اراکین نے شکایت کی ہے کہ اس تقریب کے دوران نقاب کی وجہ سے یہ یقینی بنانا مشکل ہو جاتا ہے کہ جو شخص حلف لے رہا ہے وہ حقیقت میں وہی ہے جس کے کاغذات ان کے پاس موجود ہیں۔

کینیڈا میں اس وقت نو لاکھ چالیس ہزار مسلمان آباد ہیں جو کہ کل آبادی کا دو اعشاریہ آٹھ فیصد ہیں۔ کینیڈین مسلم کونسل کے رہنما احسان گاردی کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ کینیڈا کی جمہوری روایات کے لیے نقصان دہ ہے کیونکہ یہ پردہ کرنے والے افراد کو اپنے مذہبی عقائد اور کینیڈا کی شہریت کے درمیان فیصلہ کرنے پر مجبور کرتا ہے۔

تاہم کنزرویٹو وزیر جیسن كیني کا کہنا تھا کہ وہ یہ ماننے کو تیار نہیں ہیں کہ ایسا کرنا مذہبی طور پر ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بڑا سادہ اور سیدھا معاملہ ہے اور میرے خیال میں اس میں کینیڈا کے قانون کو مقدم رکھنا چاہیے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ شہریت کا ایک عوامی تقریب میں اٹھوایا جاتا ہے جس کا مقصد ہے کہ دوسرے شہری آپ کو ایسا کرتے دیکھ سکیں اور اس عمل کے گواہ ہوں۔

خیال رہے کہ یہ پابندی ایک ایسے وقت میں لگائی گئی ہے جب کینیڈا کی سپریم کورٹ اس بحث کی سماعت کر رہی ہے کہ کیا ایک عورت کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ جن لوگوں پر جنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزام لگا رہی ہے ، ان کے خلاف گواہی دیتے وقت نقاب پہن سکے۔

اسی بارے میں