دھاندلی کی تحقیقات کا حکم دے دیا:روسی صدر

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption روسی صدر نے تحقیقات کا اعلان فیس بک پر ایک پیغام کے ذریعے کیا

روسی صدر دیمیتری میدویدو کا کہنا ہے کہ انہوں نے گزشتہ ہفتے منعقد ہونے والے متنازع پارلیمانی انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔

انہوں نے اس بات کا اعلان سماجی روابط کی ویب سائٹ فیس بک پر کیا۔

روسی صدر کی جانب سے اس اعلان کے بعد فیس بک پر ان کے صفحے پر چار ہزار افراد نے اس پیغام پر تبصرہ کیا ہے اور ان میں سے بیشتر تبصروں سے لوگوں کے اشتعال کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

سنیچر کو متنازع پارلیمانی انتخابات کے خلاف ہزاروں افراد نے ماسکو اور دیگر روسی شہروں میں جلوس نکالے تھے۔

ماسکو میں ہونے والے مظاہرے کو سوویت یونین کے خاتمے کے بعد ہونے والا سب سے بڑا حکومت مخالف مظاہرہ قرار دیا گیا ہے۔

اس مظاہرے میں شامل پچاس ہزار کے قریب افراد سنیچر کو کریملن کے قریب جمع ہوئے اور انہوں نے پارلیمانی انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی مذمت کرتے ہوئے دوبارہ انتخابات کا مطالبہ کیا۔

مظاہرے کی خاص بات یہ تھی کہ اس میں کمیونسٹ ، قوم پرست اور مغرب کی جانب جھکاؤ رکھنے والے آزاد خیال گروپ باہمی تفریق کے باوجود اکٹھے شریک ہوئے۔

روس میں گزشتہ اتوار کو ہونے والے پارلیمانی انتخاب میں وزیرِاعظم ولادیمیر پوتن کی پارٹی یونائیٹڈ رشیا کی ایوان میں برتری کم تو ہوگئی ہے لیکن معمولی اکثریت کے ساتھ اب بھی برقرار ہے۔

اسی بارے میں