یروشلم: غیرآباد مسجد کو آگ لگا دی گئی

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption یروشلم کے میئر نے اس حملے کی مذمت کی ہے

یروشلم میں واقع بارہویں صدی کی ایک قدیم اور غیر آباد مسجد کو توڑ پھوڑ کرنے والے عناصر نے آگ لگا دی اور اس کی بیرونی دیواروں پر پیغمبرِاسلام کے بارے میں توہین آمیز کلمات لکھ دیئے۔

اس حملے میں مسجد کے ڈھانچے کو کوئی نقصان نہیں پہنچا تاہم یروشلم کے میئر نے اس حملے کی مذمت کی ہے۔

اسرائیلی حکومت کی طرف سے یہودی بستیوں کی تعمیر پر پابندی عائد کرنے کی وجہ سے حال ہی میں یہودی آبادکاروں اور دائیں بازو کی جانب سے حملوں کی ایک لہر دیکھنے میں آئی ہے اور اس حملے کو بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تصور کیا جا رہا ہے۔

مظاہرین منگل کو غربِ اُردن میں ایک اسرائیلی فوجی اڈے میں گھس گئے تھے۔

حکام کا کہنا ہے کہ مظاہرین نے قلقلیہ کے قریب واقع ابراہیم بریگیڈ کے مرکزی دفاتر کوآگ لگا دی اور گاڑیوں کو نقصان پہنچایا۔ بریگیڈ کے کمانڈر کی گاڑی پر بھی پتھراؤ کیا گیا جس سے وہ معمولی زخمی ہو گئے۔

اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے ان حملوں کو ناقابلِ برداشت قرار دے کر سیکورٹی اہلکاروں کو ذمہ دار عناصر کے خلاف ’ کارروائی‘ کا حکم دیا ہے۔

یہ مسجد یروشلم کے انتہائی قدامت پسند علاقے میں واقع ہے۔ اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیل کی سنہ انیس سو اڑتالیس میں جنگِ آزادی کے بعد سے اس مسجد کو عبادت کے لیے استعمال نہیں کیا گیا اور حال ہی میں اس مسجد کی مرمت کر کے اس کو گودام میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔

بدھ کو یروشلم کے فیئر اینڈ ریسکیو سروسز کو بتایا گیا کہ مسجد میں آگ لگی ہوئی ہے، آگ بجھانے کے بعد جب عملے نے عمارت کا جائزہ لیا تو انہیں اسلام اور عربوں کے خلاف تحریر ملی۔

مسجد کی دیواروں پر ’پرائس ٹیگ‘ جیسے لکھے ہوئے پائے گئے۔ ان الفاظ کا اشارہ ان حملوں کی طرف ہے جن کا دعوٰی، اسرائیلی حکومت کی یہودی بستیوں کی تعمیر پر قابو پانے کی کوششوں کے خلاف انتقامی طور پر آبادکار اور شدت پسند کر رہے ہیں۔

سنہ انیس سو سٹر سٹھ میں اسرائیل کے غربِ اُردن اور مشرقی یروشلم پر قبضے کے بعد تعمیر ہونے والی تقریباً ایک سو یہودی بستیوں میں کم و بیش پانچ لاکھ یہودی رہائش پذیر ہیں۔

یروشلم کے میئر نیر برکات نے ایک بیان میں کہا ’ہم فسادات کو کسی بھی شکل و صورت میں برداشت نہیں کریں گے۔‘

عربِ اُردن میں یہودی بستیاں بین الاقوامی قوانین کے مطابق غیر قانونی تصور کی جاتی ہیں مگر اسرائیل اس نقطہِ نظر سے متفق نہیں ہے۔

اسرائیلی پولیس کا کہنا ہے کہ اس واقعہ کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

گزشتہ رات عربِ اُردن کے دو فلسطینی قصبوں میں تشدد کے واقعات پیش آئے۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ نابلس کے جنوب میں اور قلقلیہ کے واقعات میں دو فلسطینی گاڑیوں کو آگ لگا دی گئی تھی۔

یروشلم میں بی بی سی کے نامہ نگار کیون کونولی کا کہنا ہے کہ مسجد پر حملہ اسرائیلی حکومت کے لیے مزید تشویش کا باعث بنے گا جو پہلے ہی دائیں بازو کے شدت پسندوں کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں کے بارے میں پریشان ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی حکومت ان واقعات کے پیشِ نظر دہشت گردی کے خلاف قوانین کو سخت کرنے کے بارے میں بھی غور کر رہی ہے۔

اسی بارے میں