پاکستان کی جزوی امداد روکنے کا بل منظور

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption اگر یہ بل قانون بن گیا تو حکومتِ پاکستان کے ساتھ مل کر اس کی شرائط پوری کرنے کے معاملے پر کام کریں گے:امریکہ

امریکی ایوانِ نمائندگان نے اس ’ڈیفینس آتھرائزیشن بل‘ کی منظوری دے دی ہے جس کی ایک شق کے تحت پاکستان کو دی جانے والی امداد میں سے ستّر کروڑ ڈالر کی رقم روک لی جائے گی۔

بدھ کو کانگریس میں ہونے والی ووٹنگ میں اس قرارداد کے حق میں دو سو تراسی جبکہ مخالفت میں ایک سو چھتیس ووٹ آئے۔

اب اس بل کو منظوری کے لیے ایوانِ بالا یا سینیٹ میں پیش کیا جائے گا۔

امریکی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ کے اراکین پر مشتمل مذاکراتی پینل نے پیر کی رات اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ پاکستان کو دی جانے والی ستّر کروڑ ڈالر کی امداد روک دی جائے۔ یہ اتفاقِ رائے اس پینل کے اجلاس میں ہوا تھا جو امریکہ کے چھ سو باسٹھ ارب ڈالر کے دفاعی بجٹ پر بحث کر رہا ہے۔

اس اتفاقِ رائے کے بعد امریکی محکمۂ خارجہ نے کہا تھا کہ پاکستان کو دی جانے والی ستّر کروڑ ڈالر کی امداد روکی نہیں گئی بلکہ اسے امریکی محکمۂ دفاع کی جانب سے دیسی دھماکہ خیز مواد کے معاملے پر پاکستان کے ساتھ حکمتِ عملی کی تیاری سے مشروط کیا گیا ہے۔

محکمۂ خارجہ کی ترجمان وکٹوریہ نولینڈ کا کہنا تھا کہ ’اگر یہ بل قانون بن گیا تو ہم حکومتِ پاکستان کے ساتھ مل کر اس کی شرائط پوری کرنے کے معاملے پر کام کریں گے‘۔

انہوں نے بتایا کہ ’یہ اس دفاعی بل کا حصہ ہے جو کہ اس وقت کانگریس میں ہے اور جس کے تحت محکمۂ دفاع کو مخصوص عسکری نظاموں کے استعمال اور کارگزاری کے حوالے سے حکمتِ عملی خصوصاً دیسی دھماکہ خیز مواد کے معاملے پر پاکستان کے ساتھ مل کر حکمتِ عملی تیار کرنا ہوگی‘۔

پاکستان کو دی جانے والی امداد پر قدغن لگانے کا مقصد اس پر دباؤ بڑھانا ہے کہ وہ اپنے ملک میں دیسی ساختہ دھماکہ خیز مواد کی پیداوار کو روکے جو افغانستان میں امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا سبب بن رہی ہے۔

ایوانِ نمائندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے چیئرمین بک مک کیون کا کہنا تھا ’ہمارے پاکستان کے ساتھ تعلقات میں اب بدگمانی آچکی ہے۔ (تاہم) ہمیں ان کی ضرورت ہے اور انہیں ہماری۔ لیکن ایک بات جو مجھے افغانستان کی اِس جنگ میں سب سے زیادہ مضطرب کرتی ہے وہ زندگیوں اور انسانی اعضاء کا زیاں ہے۔‘

رائٹرز کے مطابق دیسی ساختہ دھماکہ خیز مواد افغانستان میں امریکی اور اتحادی فوجیوں کو نشانہ بنانے کے لیے شدت پسندوں کا مؤثر ہتھیار ہے۔ زیادہ تر دیسی ساختہ بموں کو بنانے کے لیے امونیم نائٹریٹ یعنی عام کھاد کا استعمال کیا جاتا ہے اور یہ مواد پاکستان سے سرحد پار لایا جاتا ہے۔

اسی بارے میں