فلپائن میں طوفان، چار سو تیس افراد ہلاک

سیلاب تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption جس وقت سیلاب آیا لوگ سو رہے تھے اس لیے وہ اپنے بچاؤ کے لیے کچھ نہیں کر سکے۔

فلپائن میں اچانک آئے ایک طوفان اور سیلابی ریلوں کے باعث کم سے کم چار سو تیس افراد ہلاک اور درجنوں لاپتہ ہیں۔

یہ سیلاب واشي نام کے سمندری طوفان کی وجہ سے ہونے والی شدید بارش کے بعد آیا ہے۔

زیادہ تر ہلاکتیں فلپائن کے جنوب میں واقع منڈاناؤ جزیرے پر ہوئی ہیں۔

اس جزیرے پر شدید بارش کے بعد آدھی رات کو اچانک سیلاب آ گیا اور لوگوں کو کچھ کرنے کا زیادہ موقع نہیں ملا۔

حکام کے مطابق کئی لوگ لاپتہ ہیں اور ہزاروں لوگ جزائر کے اونچے مقامات کی طرف نقل مکانی کر گئے ہیں۔

فلپائن میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے کے سربراہ بینیٹو راموس نے کہا ہے کہ منڈاناؤ میں مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

راموس نے کہا ہے کہ جزائر پر گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں پچیس ملی لیٹر بارش ہوئی ہے جس کے بعد وہاں کی ساری ندیوں میں طغیانی ہے۔

بینیٹو راموس نے کہا ’ڈاناو کے الگان اور كاگيان ڈے اورو شہروں میں سیلاب کی صورتحال سنگین ہے۔ ہزاروں لوگ جزیرے کے اونچے مقامات پر نقل مکانی کر گئے ہیں۔‘

منڈاناؤ جزیرے کے الیگان شہر کے میئر لریس کروز نے کہا ہے کہ ان کے علاقے کے دس رہیات پانی میں ڈوب گئے ہیں۔میئر نے کہا کہ کوسٹ گارڈ اور دیگر امدادی اہلکار ساحلی علاقے پر واقع اس شہر میں لوگوں کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

انہوں نے ایک مقامی ٹی وی چینل کو بتایاکہ ’یہ اتنی جلدی ہوا کہ کسی کو وقت نہیں ملا۔ سب گہری نیند میں سو رہے تھے۔‘

فلپائن میں فوج کے ترجمان کے مطابق دس ہزار اہکار ریسکیو آپریشن میں حصہ لے رہے ہیں۔

فلپائن میں ہر سال کم سے کم بیس بڑے طوفان آتے ہیں۔ ستمبر میں دو بڑے طوفانوں میں سو سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

اسی بارے میں