شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ال انتقال کر گئے

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption کم جونگ ال سنہ انیس سو چورانوے میں اپنے والد کے انتقال کے بعد برسراقتدار آئے تھے

شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ال انہتر برس کی عمر میں انتقال کر گئے ہیں۔

ان کی وفات کا اعلان سرکاری ٹی وی پر نشر کیے جانے والے ایک بیان میں کیا گیا ہے۔

شمالی کوریا کے رہنما کی زندگی: تصاویر میں

بیان میں کہا گیا ہے کہ کم جونگ ال کا انتقال سنیچر کو دارالحکومت پیانگ یانگ سے باہر ٹرین پر سفر کے دوران دل کا دورہ پڑنے سے ہوا۔

بیان میں انتقال کی وجہ جسمانی اور ذہنی کام کاج کی زیادتی بتائی گئی ہے۔ کم جونگ ال پر سنہ دو ہزار آٹھ میں فالج کا حملہ ہوا تھا اور وہ کئی ماہ تک منظرِ عام پر نہیں آئے تھے۔

شمالی کوریا کی سرکاری خبر رساں ادارے کے سی این کے مطابق کم جونگ ال کی آخری رسومات اٹھائیس دسمبر کو ادا کی جائیں گی اور ان کے بیٹے کم جونگ آن اختتامی رسومات کی کمیٹی کے سربراہ ہوں گے۔

جنوبی کوریا میں موجود بی بی سی کی نامہ نگار لوسی ولیم سن کا کہنا ہے کہ کم جونگ ال کی وفات شمالی کوریا کے لیے ایک بڑے دھچکا ثابت ہو سکتی ہے۔

کم جونگ ال سنہ انیس سو چورانوے میں اپنے والد کم ال سونگ کے انتقال کے بعد برسراقتدار آئے تھے اور اب ان کے بیٹے کم جونگ آن کو ان کا جانشین مقرر کیا گیا ہے۔

کم جونگ آن کی عمر تیس سال کے قریب ہے، وہ فور سٹار جنرل ہیں اور ان کے پاس کمیونسٹ پارٹی کے فوجی کمیشن کے نائب چیئرمین کا عہدہ بھی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption کم جونگ آن کو کم جونگ ال کا جانشین مقرر کیا گیا ہے

وہ پہلی مرتبہ گزشتہ سال اکتوبر میں اپنے والد کے ہمراہ ایک فوجی پریڈ میں شریک ہوئے تھے اور اُس وقت قیاس کیا گیا تھا کہ ان کے والد کی صحت کی خرابی کی وجہ سے اقتدار منتقل کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔

شمالی کوریا کی سرکاری خبر رساں ادارے کے سی این کے ذریعے ہی حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ متحد ہو کر کم جونگ آن کا ساتھ دیں۔

خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ ’جماعت کے تمام کارکن، فوجی اور عوام کامریڈ کم جونگ آن کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کریں اور جماعت، فوج اور عوام کے اتحاد کو مزیں مضبوط بناتے ہوئے اس کی حفاظت کریں‘۔

ادھر کم جونگ ال کی وفات کے بعد شمالی کوریا اور اس کے جوہری پروگرام کے مستقبل کے بارے میں غیریقینی صورتحال کی وجہ سے شمالی کوریا کے ہمسایہ ممالک میں بےچینی دیکھی گئی ہے۔

جنوبی کوریا کا کہنا ہے کہ اس نے اپنی فوج کو مستعد رہنے کا حکم دیا ہے اور ملک کی قومی سلامتی کی کونسل کا ہنگامی اجلاس بھی طلب کر لیا گیا ہے۔

جنوبی کوریا کی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ ملک ہنگامی صورتحال سے نمٹنے اور ہر قسم کے نتائج کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہے۔ جنوبی کوریا کے صدر لی میونگ بیک نے عوام سے پرسکون رہنے کی اپیل بھی کی ہے۔

اس کے علاوہ جاپان کا کہنا ہے کہ وہ غیر متوقع سکیورٹی معاملات سے نمٹنے کے لیے تیاری کر رہا ہے جبکہ امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ جنوبی کوریا، جاپان اور خطے میں شمالی کوریا کے بڑے حامی چین سے رابطے میں ہے۔

اسی بارے میں