کم جونگ ال ایک متضاد شخصیت

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption کم جونگ ال سنہ انیس سو چورانوے میں اپنے والد کے انتقال کے بعد برسراقتدار آئے تھے

شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ال دنیا کے ان رہنماؤں میں سے تھے جن تک رسائی بہت مشکل تھی اور وہ ایک پر اسرار شخصیت کے مالک تھے۔ وہ ایسے ملک کے سربراہ رہے جو عالمی سطح پر الگ تھلگ پڑا رہا۔

حکمرانی وراثت میں پانے والے، وہ دنیا کے وہ واحد کمیونسٹ رہنما تھے۔

انسانی حقوق کی پامالیوں، پڑوسی ملکوں میں جوہری ہتھیاروں کے حصول اور دور تک مار کرنے والے میزائلوں کے تجربات سے پڑوسی ممالک کےاستحکام کے لیے خطرہ بننے جیسے واقعات کے لیے ان پر زبردست نکتہ چینی بھی ہوئي۔

سنہ انیس سو چورانوے میں اپنے والد کم ال سنگ کی وفات کے بعد جب انہوں نے اقتدار سنبھالا تو ان کے متعلق لوگوں کو بہت کم ہی پتہ تھا کیونکہ وہ پبلک میں شاذ و نادر ہی نظر آئے تھے۔

کہا جاتا ہے کہ سنہ انیس سو ستاسی میں انہوں نے خود ہی جنوبی کوریا کی ایک ایئر لائن کو مار گرانے کا حکم دیا تھا۔

جنوبی کوریا کے ذرائع ابلاغ میں ان کی جو تصویر پیش کی گئی ہے اس کے مطابق وہ خاص بالوں کے سٹائل میں پلے بوائے کی طرح دکھنے کی کوشش اور طویل قد دکھانے کے لیے اونچی ایڑی والے جوتے پہننے والے ایک شخص ہیں۔

لیکن ان سے متعلق بہت سے شواہد سے ایسا لگتا ہے کہ وہ اتنے بےوقوف نہیں تھے جتنا کہ جنوبی کوریا کے لوگ انہیں پیش کرتے تھے۔ ہاں یہ بات درست ہے کہ وہ کھانے پینے کے بہت شوقین تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption کم جونگ ال روس کے خباروسکی شہر کے پاس ہی پیدا ہوئے تھے

روس کے ایک ایلچي کونسٹین پولیسکی کا جنہوں نے کم جونگ کے ساتھ پورے روس کا ریل گاڑی میں سفر کیا تھا، کہنا ہے کہ سفر کے دوران ہر روز ٹرین میں انہیں تازہ لوبسٹر ٹرین میں مہیا کیے جاتے تھے جنہیں کھانے کے لیے چاندی کی چوپ سٹک استعمال کرتھے۔

جن لوگوں کو کم جونگ ال سے ملنے کا موقع ملا ہے ان کا کہنا ہے کہ انہیں کی معلومات کا ذخیرہ وسیع تھا اور عالمی امور پر ان کی گہری نظر تھی۔

بعض کے مطابق وہ بہت شاطر اور داؤ پیچ کے ماہر تھے جو اپنی حکومت کو تقویت دینے کے لیے خطروں سے کھیلا کرتے تھے۔ شمالی کوریا میں تو وہ آمر کی حیثیت سےایک خاص روپ میں ہیرو کی طرح تھے۔

شمالی کوریا میں سرکاری سطح پر اس طرح کی باتیں مشہور ہیں کہ جب وہ پیدا ہوئے تھے تو دو قوس قزح ظاہر ہوئیں اور آسمان میں ایک خاص ستارہ چمکا تھا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ انہوں نے چھ داستانیں بھی قلم بند کی تھیں۔

حقیقت میں کم جونگ ال روس کے خباروسکی شہر کے پاس ہی پیدا ہوئے تھے جہاں ان کے گوریلاجنگ کے ماہر باپ کو روس کی طرف سے مدد ملی تھی۔ نتیجتاً کوریا کی جنگ کی دوران ان کا زیادہ تر وقت چین میں گزرا تھا۔

شمالی کوریا کے دیگر اشرافیہ طبقے کی طرح انہیں بھی کم دوئم یونیورسٹی میں تعلیم ملی۔ سنہ انیس سو پچھہتر میں انہیں '' ڈیئر لیڈر'' کا خطاب ملا اور بعد میں انہوں نے کورین ورکرز پارٹی کی سینٹرل کمیٹی میں شمولیت اختیار کی جہاں انہیں آرٹ اور کلچر جیسے شعبوں کی ذمہ داری سونپی گئي۔

سنہ انیس سو اٹھہتر میں انہوں نے مبینہ طور پر جنوبی کوریا کے ایک فلم ہدایت کار شن سانگ اوکے اور ان کی اداکارہ بیوی چوائے این ہی کو اغوا کرنے کا حکم دیا تھا۔

میاں بیوی دونوں پانچ برس تک علیحدہ رکھےگئے تھے پھر بعد میں انہیں ایک پارٹی میں ملایا گيا تھا۔ کم جونگ نے اس کے لیے معافی مانگی اور ہدایت کار سے اپنے لیے فلم بنانے کو کہا۔ انیس سو چھیاسی میں فرار ہونے سے پہلے دونوں نے ان کے لیے سات فلمیں بنائی تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کم جونگ کی وفات کی خبر شمالی کوریا کے لیے بڑا دھچکا ثابت ہو سکتی ہے

کم جونگ ال کو سنیما سے بہت پیار اور لگاؤ تھا۔ کہا جاتا ہے کہ ان کے پاس ہالی وڈ کی تقریباً بیس ہزار فلموں کا خزانہ تھا اور فلموں سے متعلق انہوں نے ایک کتاب بھی لکھی۔ کہا جاتا ہے کہ الزیبتھ ٹیلر ان کی سب سے پسندیدہ ہیروئن تھیں۔

باور کیا جاتا ہے کہ انہوں نے سرکاری فلم کمپنی کا سینکڑوں بار دوہ کیا تھا اور سو حصوں پر مشتمل شمالی کوریا کی تاریخ سے متعلق ایک قومی سیریز بھی بنائی تھی۔

سنہ انیس اکانوے میں انہیں شمالی کوریا کی فوج کا سربراہ منتخب کیا گيا اور انہیں یہ عہدہ ممکنہ طور ہونے والی بغاوت کو کچلنے کے لیے دیا گيا تھا۔ لیکن اسی دور میں ملک کی معیشت گرتی گئی اور روس کے ساتھ اس کی تجارت کو بھی زبردست نقصان پہنچا۔

ایک وقت وہ بھی آيا کہ جب قدرتی آفات کے سبب فصلیں بھی تباہ ہوئیں اور بھوک سے ہزاروں افراد ہلاک ہو گئے۔

یہ سب اس وقت تک جاری رہا جب کم جونگ کو اپنے والد سے سنہ چورانوے میں اقتدار وراثت میں ملا۔ کم نے اقتدار سنبھالنے کے بعد عالمی برادی سے مدد کی اپیل کی اور چین کی مدد سے کچھ حالات بہتر ہوئے۔

معیشت کو بہتر بنانے کی غرض سے انہوں نے چین کا کئي بار دورہ کیا تاکہ یہ پتہ کرسکیں کہ آخر چین کی کمیونسٹ حکومت نے اقتصادی بحالی کے لیے کیا سوشلسٹ فارمولے اپنائے ہیں اسی کا جائزہ لے کر انہوں نے معاشی اصلاحات شروع کی تھیں۔

اگست دو ہزار آٹھ میں جاپان کے ایک میگزین میں اچانک یہ بات شائع‏ ہوئي کہ کم جونگ ال انتقال کر چکے ہیں اور ان کی جگہ ان جیسا کوئی دوسرا شخص دکھایا جاتا ہے۔ ایک ماہ بعد پھر ان افواہوں کے درمیان ’وہ ملک کی سالگرہ کی تقریب میں شرکت کرنے نہیں آئے ہیں‘ امریکی خفیہ ادروں نے یہ دعوی کیا کہ کم جونگ کو دل کا دورہ پڑا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption کم جونگ ال کے بیٹے ان کے جانشین بنائے گئے ہیں

لیکن ان افواہوں کے دوران ہی اپریل دو ہزار نو میں شمالی کوریا نے ایسے ویڈیو جاری کیے جس میں انہیں فیکٹری کا دورہ کرتے اور دفتر جاتے ہوئے دکھایا گيا۔

دو ہزار نو میں جب امریکہ کے سابق صدر بل کلنٹن ایک امریکی صحافی کی رہائی کے لیے شمالی کوریا گئے تو بھی وہ اچانک ظاہر ہوئے تھے۔ کلنٹن سے ملاقات کے بعد ہی یہ خبر آئی کہ کوریا نے امریکی شہریوں کو معاف کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

کم جونگ ال نے اپنے والد کی طرح ہی مارکسسٹ لیننسٹ نظریے کو زندہ رکھنے کے لیے کام کیا۔ عالمی برادری کے تمام دباؤ کے باوجود وہ جوہری پروگرام کے حصول کے لیے کوشاں رہے۔

اسی بارے میں