عراق: وزیراعظم مالکی کو ہٹانے کا مطالبہ

Image caption وزیرِاعظم نے تمام سیاسی دھڑوں کو اس بحران کو حل کرنے کے لیے مذاکرات کی دعوت دی ہے ۔

عراق میں سنّی العقیدہ سیاستدانوں کے مرکزی گروپ نے ملک کے شیعہ وزیراعظم نوری المالکی کو ان کے عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔

عراقیہ کے ایک ترجمان نے بدھ کو کہا ہے کہ وہ نوری المالکی کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لانے کا ارادہ رکھتےہیں اور اس سلسلے میں باقاعدہ درخواست دینے والے ہیں۔

ترجمان نے وزیراعظم مالکی کی جانب سے تمام سیاسی دھڑوں کو دی جانے والی بات چیت کی دعوت بھی رد کر دی ہے۔

عراق میں یہ حالیہ سیاسی بحران امریکی فوجیوں کی عراق سے انخلاء کے اگلے دن ہی دہشتگردی کے الزامات میں عراق میں سنی مسلک کے سینیئر ترین سیاستدان اور ملک کے نائب صدر طارق الہاشمی کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے جانے کے بعد شروع ہوا ہے۔

طارق الہاشمی نے سکیورٹی اہلکاروں پر حملوں میں ملوث ہونے کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کسی قسم کی دہشت گرد کارروائی میں ملوث نہیں ہیں۔ وہ اس وقت شمالی عراق میں ہیں جو کہ کردوں کے زیرانتظام نیم خود مختار علاقہ ہے۔

عراقی وزیرِاعظم نوری المالکی نے بدھ کو ہی کُردوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ طارق الہاشمی کو حکام کے حوالے کر دیں۔

ادھر امریکہ کے نائب وزیرِاعظم جو بائیڈن نے عراقی رہنماؤں سے کہا ہے کہ وہ تازہ فرقہ وارانہ کشیدگی سے بچنے کے لیے مل جل کر کام کریں۔

عراقی ٹی وی پر براہِ راست دکھائی جانے والی پریس کانفرنس میں عراق کے شیعہ وزیرِاعظم نے کہا کہ اگر عراقیہ نے، جو کہ سنیوں کا سب سے بڑا سیاسی گروہ ہے، پارلیمنٹ اور کابینہ کا بائیکاٹ نہ ختم کیا تو وہ ان کے تمام وزراء کو برطرف کر دیں گے۔

وزیرِاعظم نے تمام سیاسی دھڑوں کو اس بحران کو حل کرنے کے لیے مذاکرات کی دعوت بھی دی ۔

انہوں نے کہا کہ اگر مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو عراق میں مستقبل میں اکثریت سے بنائی ہوئی حکومت آ سکتی ہے اور ملک کو مثبت سمت میں لے جانے کے لیے ہر کسی کو حکومت کے ساتھ اتحاد کا حق ہوگا ۔

طارق الہاشمی نے اپنے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے عرب لیگ کی نگرانی مانگی ہے۔ اس سے متعلق ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیرِاعظم نے کہا کہ یہ عراق کا ایک اندرونی فوجداری معاملہ ہے اور انہیں عرب لیگ یا اقوام متحدہ کی مداخلت کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔

اسی بارے میں